تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 253

۲۵۳ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا تو خدا کے غضب کے صاعقہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے تعلقات خدا تعالی سے بکھی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارے میں قرآن شریف میں لکھا گیا اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا: وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ (البقرة : ٩٠) اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالی سے نصرت دین کے لئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا اگر چہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خدا تعالیٰ کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مر گیا اور اس میں حقیقت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہو گئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہوگا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ملک عرب میں آ رہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ۔یعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہو گیا۔تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہیوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہو گئے۔مگر بعض سعادت مند مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا۔( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۶،۴۷۵) حدیث نبوى يَعْرِفُهُمْ غَير مٹی کے معنے جو اس عاجز کے دل میں ڈالے گئے ہیں یہ ہیں کہ غیر کے لفظ سے نفی ماسوا اللہ مراد نہیں بلکہ نفی نا اہل و نا آشنا مراد ہے۔مگر جو لوگ مومن حقیقی ہیں وہ بباعث استعداد فنا اور زوال حجب کے کبریائی و امن کے اندر داخل ہیں اور غیر نہیں ہیں۔خود خدا تعالیٰ نے بعض صالح اہل کتاب کے حق میں اپنی کتاب مجید میں فرمایا ہے: يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُمْ یعنی وہ لوگ پیغمبر آخرالزمان کو جو امام الانبیاء اور سید الاولیاء ہے۔اس طرح پر شناخت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو شناخت کر رہے ہیں۔اور اسی طرح روحانی روشنی کی برکت سے اولیاء اولیاء کو شناخت کر لیتے ہیں۔حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیس کے وجود کو یمن میں شناخت کر لیا۔اور بار ہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یمن کی