تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 252
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة البقرة b الَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُمْ ۖ وَ إِنَّ فَرِيقًا مِنْهُم لَيَكتُمُونَ الْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ® ۱۴۷ اگر آنحضرت اُمّی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیوں کر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمّی اور نا خواندہ کا کام نہیں اور نہ دس ہیں آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے اَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ أَخَرُونَ (الفرقان :۵) کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا يَعرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ قرآن شریف کی حقانیت معلوم کرنے کے لئے اب بھی وہی معجزات قرآنیہ اور وہی تاثیرات فرقانیہ اور وہی تائیدات غیبی اور وہی آیات لا ریہی موجود ہیں جو اس زمانہ میں موجود تھی خدا نے اس دین قویم کو قائم رکھنا تھا اس لئے اس کی سب برکات اور سب آیات قائم رکھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کے ادیان محترفہ اور باطلہ اور نا قصہ کا استیصال منظور تھا اس جہت سے ان کے ہاتھ صرف قصے ہی قصے رہ گئے اور برکت حقانیت اور تائیدات سماویہ کا نام ونشان نہ رہا۔ان کی کتابیں ایسے نشان بتلا رہی ہیں جن کے ثبوت کا ایک ذرا نشان اُن کے ہاتھ میں نہیں صرف گزشتہ قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر قرآن شریف ایسے نشان پیش کرتا ہے جن کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۸۸ تا ۵۹۲) حضرت موسیٰ کی نسبت اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَجَحَدُوا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمُ (العمل : ۱۵) یعنی انہوں نے موسیٰ کے نشانوں کا انکار کیا۔لیکن ان کے دل یقین کر گئے اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاء هُمْ یعنی کافر لوگ جو اہل کتاب ہیں ایسے یقینی طور پر اس کو شناخت کرتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۶)