تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 251

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة البقرة یہی صورت ہے مال کی طرف دیکھو نہ ممسک بناتا ہے نہ مسرف یہی وجہ ہے کہ اس امت کا نام ہی اُمَّةً وَسَطًا الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵) رکھ دیا گیا۔خدا نے اُمت وسط کہا تھا۔وسط سے مُراد: میانہ رو۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۷۴) خدا نے اسلام کو دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ بنایا ہے اس میں ایسی وسطی راہ اختیار کی گئی ہے جو افراط و تفریط سے بالکل خالی ہے وَكَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۔( بدر جلد نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۳) قَدْ نَرى تَقَلُّبَ وَجُهِكَ فِي السَّمَاءِ ، فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبْلَةً تَرضُهَا فَوَلِ وَجْهَكَ b شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً وَ إِنَّ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ وَ مَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا اوروور (۱۴۵ يعملون ® آپ ( مولوی محمد بشیر بھو پالوی) نے جو نونِ ثقیلہ کا قاعدہ پیش کیا ہے وہ سراسر مخدوش اور باطل ہے۔حضرت ہر ایک جگہ اور ہر ایک مقام میں نون ثقیلہ کے ملانے سے مضارع استقبال نہیں بن سکتا۔قرآن کریم کے لئے قرآن کریم کی نظیریں کافی ہیں اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پر جب نونِ ثقیلہ ملا ہے تو وہ استقبال کے معنوں پر مستعمل ہوئے ہیں۔لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصلہ معدہ کی طرح مراد لئے گئے ہیں۔یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔ص پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبْلَةٌ تَرْضُهَا قَولِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال ہی مُراد ہے کیونکہ بمجرد نزول آیت کے بغیر توقف اور تراخی کے خانہ کعبہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم ہو گیا یہاں تک کہ نماز میں ہی منہ پھیر دیا گیا۔اگر یہ حال نہیں تو پھر حال کس کو کہتے ہیں۔استقبال تو اس صورت میں ہوتا کہ خبر اور ظہور خبر میں کچھ فاصلہ بھی ہوتا سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم تجھ کو اس قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں جس پر تو راضی ہے سوتو مسجد حرام کی طرف منہ کر۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۲، ۱۶۳)