تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۴۸ سورة البقرة اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور اُن کے کاموں سے تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۸) وَقَالُوا كُونُوا هُودًا اَوْ نَصْرِى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ہبل نوحہ کو کہتے ہیں خدا نے شیث کو یہ بروز دیا۔پھر یہ سلسلہ برابر چلتا گیا۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بروز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اس لئے قُلْ بَلْ مِلَّةَ ابْراهِمَ حَنِيفًا فرمایا۔اس میں یہی سر ہے۔ابراہیم دواڑھائی ہزار سال کے بعد عبداللہ کے گھر میں ظاہر ہوا۔غرض بروز کا مذہب ایک متفق علیہ مسئلہ ظہورات کا ہے۔قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِم وَ اسْعِيلَ وَإِسْحَقَ وَ ( ملفوظات جلد ۱ صفحه ۲۹۵،۲۹۴) يَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا أَمَنْتُمْ بِه ملے ج فَقَدِ اهْتَدَوا ۚ وَ إِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ یعنی اے مسلمانو! تم اس طرح پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اس خدا پر ایمان لائے جس کا نام اللہ ہے یعنی جیسا کہ قرآن شریف میں اُس کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ جامع تمام صفات کا ملہ کا ہے اور تمام عیبوں سے پاک ہے اور ہم خدا کے اُس کلام پر ایمان لائے جو ہم پر نازل ہوا یعنی قرآن شریف پر اور ہم خدا کے اس کلام پر بھی ایمان لائے جو ابراہیم نبی پر نازل ہوا تھا اور ہم خدا کے اس کلام پر ایمان لائے جو اسمعیل نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ایمان لائے جو اسحاق نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ایمان لائے جو یعقوب نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ایمان لائے جو یعقوب نبی کی اولاد پر نازل ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو موسیٰ نبی کو دیا گیا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو عیسی نبی کو دیا گیا تھا اور ہم اُن تمام کتابوں پر ایمان لائے جو دنیا کے کل نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھیں یعنی اس کی طرف سے جس نے کھلے کھلے طور پر اُن کی ربوبیت کی اور دنیا پر ثابت کیا کہ وہ اُن کا ناصر اور حامی اور مرتی ہے