تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 241
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة البقرة ہمارے وجود کے تمام پرزے اور ہمارے نفس کی تمام قوتیں اس کام میں لگ جائیں اور ہماری موت اور ہماری زندگی اسی کے لئے ہو جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۳، ۳۸۴) انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قومی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پردہ غفلت درمیان سے اٹھانا کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے پس ایک شخص کو مسلمان اس وقت کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ تمام قو تیں اس کی خدا تعالیٰ کے راہ میں لگ جائیں اور اس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خودروی سے نہ چلے۔یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قوتیں جو اس کی انسانیت کا نچوڑ اور آپ کباب ہیں اطاعت الہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قوتیں اطاعت الہی کے نیچے آ گئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں تو ایسے شخص کا نام مسلمان ہوگا۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۷۱، ۲۷۲) وجہ کے اصل معنی لغت کی رو سے منہ کے ہیں چونکہ انسان منہ سے شناخت کیا جاتا ہے اور کروڑہا انسانوں میں مابہ الامتیاز منہ سے قائم ہوتا ہے۔اس لئے اس آیت میں منہ سے مراد استعارہ کے طور پر انسان کی ذات اور اس کی قوتیں ہیں جن کی رو سے وہ دوسرے جانوروں سے امتیاز رکھتا ہے گویا وہ قو تیں اس کی انسانیت کا منہ ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۷۱ حاشیه ) جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو۔سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قومی کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے۔اور حقیقی نیکی کے بجالانے میں سرگرم رہے سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور خون سے نجات بخشے گا۔یادر ہے کہ یہی اسلام کا لفظ کہ اس جگہ بیان ہوا ہے دوسرے لفظوں میں قرآن شریف میں اس کا نام استقامت رکھا ہے جیسا کہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - یعنی ہمیں استقامت کی راہ پر قائم کر ان لوگوں کی راہ جنہوں نے تجھ سے انعام پایا اور جن پر آسمانی دروازے کھلے۔واضح رہے کہ ہر ایک چیز کی وضع استقامت اس کی علت غائی پر نظر کر کے سبھی جاتی ہے۔اور انسان کے