تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ص ۲۳۴ سورة البقرة ہوئی ہے یہی اسلام اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کا لب لباب ہے جو نفس اور خلق اور ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے۔اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔عادت تامہ کے تینوں ضروری در جوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے۔کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضاء اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے۔وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آ گیا تو بلاشبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہوگئی اور اسی موت کو اہلِ تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔پھر بعد اس کے وَهُوَ مُحسین کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنا مکمل واتم و سلب جذبات نفسانی، الہبی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیات ثانی ہے جس کا نام بتا رکھنا چاہئے۔پھر بعد اس کے یہ فقرات فلةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جو اثبات و ایجاب اجر و نفی و ساب خوف و حزن پر دلالت کرتے ہیں یہ حالت لقا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس وقت انسان کے عرفان اور یقین اور توکل اور محبت میں ایسا مرتبہ عالیہ پیدا ہو جائے کہ اس کے خلوص اور ایمان اور وفا کا اجر اس کی نظر میں وہمی اور خیالی اور نلنی نہ رہے بلکہ ایسا یقینی اور قطعی اور مشہود اور مرئی اور محسوس ہو کہ گویا وہ اس کویل چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسا یقین ہو جائے کہ گویا وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور ہر یک آیندہ کا خوف اس کی نظر سے اٹھ جاوے اور ہر یک گزشتہ اور موجودہ غم کا نام ونشان نہ رہے اور ہر یک روحانی شکم موجود الوقت نظر آوے تو یہی حالت جو ہر ایک قبض اور کدورت سے پاک اور ہر یک دغدغہ اور شک سے محفوظ اور ہر یک درد انتظار سے منزہ ہے لقا کے نام سے موسوم ہے اور اس مرتبہ لقا پر محسن کا لفظ جو آیت میں موجود ہے نہایت صراحت سے دلالت کر رہا ہے کیونکہ احسان حسب تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت کا ملہ کا نام ہے کہ جب انسان اپنی پرستش کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔