تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 234

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة البقرة ہوئی ہے۔ یہی اسلام اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کا لب لباب ہے جو نفس اور خلق اور ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے۔ اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی بلی مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ عادت تامہ کے تینوں ضروری درجوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضاء اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے۔ وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آ گیا تو بلاشبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہو گئی اور اسی موت کو اہل تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ پھر بعد اس کے وَهُوَ مُحْسِن کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنا اکمل واتم و سلب جذبات نفسانی، الہی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیات ثانی ہے جس کا نام بقا رکھنا چاہئے ۔ پھر بعد اس کے یہ فقرات فلةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جو اثبات و ايجاب اجر ونفی و سلب خوف و حزن پر دلالت کرتے ہیں یہ حالت لقا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس وقت انسان کے عرفان اور یقین اور توکل اور محبت میں ایسا مرتبہ عالیہ پیدا ہو جائے کہ اس کے خلوص اور ایمان اور وفا کا اجر اس کی نظر میں وہمی اور خیالی اور ظنی نہ رہے بلکہ ایسا یقینی اور قطعی اور مشہود اور مرئی اور محسوس ہو کہ گویا وہ اس کومل چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسا یقین ہو جائے کہ گویا وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور ہر یک آیندہ کا خوف اس کی نظر سے اٹھ جاوے اور ہر یک گزشتہ اور موجودہ غم کم کا نام و نشان نہ رہے اور ہر یک روحانی منعم موجود الوقت ن نظر آوے تو یہی حالت جو ہر یک قبض اور کدورت سے پاک اور ہر یک دغدغہ اور شک سے محفوظ اور ہر یک درد انتظار سے منزہ ہے لقا کے نام سے موسوم ہے اور اس مرتبہ لقا پر حسن کا لفظ جو آیت میں موجود ہے نہایت صراحت سے دلالت کر رہا ہے کیونکہ احسان حسب تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالتِ کاملہ کا نام ہے کہ جب انسان اپنی پرستش کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔