تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 229

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۹ سورة البقرة یعنی اس کامیابی کے ذریعہ سے ان میں اور غیروں میں فرق ہو جائے گا۔اور جو سچے نجات یافتہ نہیں ان کے مقابل میں دم نہیں مارسکیں گے پھر دوسری جگہ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ( سور وحم السجدة: ۳۱ تا ۳۳) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر استقامت اختیار کی ان کی یہ نشانی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم مت ڈرو اور کچھ غم نہ کرو اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا ہم تمہارے دوست اور متوتی اس دنیا کی زندگی میں ہیں اور نیز آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشت میں وہ سب کچھ دیا گیا جو تم مانگو یہ مہمانی ہے غفور رحیم ہے۔اب دیکھئے اس آیت میں مکالمہ الہیہ اور قبولیت اور خدا تعالیٰ کا متولی اور متکفل ہونا اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی کی بنا ڈالنا اور ان کا حامی اور ناصر ہونا بطور نشان کے بیان فرمایا گیا۔اور پھر اس آیت میں۔۔۔۔۔۔کہ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ (ابراهيم : ۲۶) اسی نشانی کی طرف اشارہ ہے کہ کچی نجات کا پانے والا ہمیشہ اچھے پھل لاتا ہے اور آسمانی برکات کے پھل اس کو ہمیشہ ملتے رہتے ہیں اور پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے: وَ اِذَا و سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ ُأجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا فِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۷) اور جب میرے بندے میرے بارہ میں سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی جب وہ لوگ جو اللہ رسول پر ایمان لائے ہیں یہ پتہ پوچھنا چاہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاویں۔تو ان کو کہہ دے کہ میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دُور ہیں جب کوئی دُعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دُعا کرے دُعا کرتے ہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہمکلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دُعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں پس چاہیئے کہ قبول کریں حکم میرے کو اور ایمان لاویں تا کہ بھلائی پاویں ایسا ہی اور کئی مقامات میں اللہ جل شانہ نجات یافتہ لوگوں کے نشان بیان فرماتا ہے اگر وہ تمام لکھے جاویں تو طول ہو جائے گا جیسا کہ ان میں سے ایک یہ بھی آیت ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لكم