تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 228

و ۲۲۸ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہو جائے کہ وہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے۔اس طرح پر کہ اس کا مرنا اور جینا اور اس کے تمام اعمال خدا تعالی کے لئے ہو جائیں اور اپنے نفس سے وہ بالکل کھویا جائے اور اس کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو جائے اور پھر نہ صرف دل کے عزم تک یہ بات محدودر ہے بلکہ اس کی تمام جوارح اور اس کے تمام قویٰ اور اس کی عقل اور اس کا فکر اور اس کی تمام طاقتیں اسی راہ میں لگ جائیں تب اس کو کہا جائے گا کہ وہ محسن ہے یعنی خدمت گاری کا اور فرمانبرداری کا حق بجالا یا جہاں تک اس کی بشریت سے ہوسکتا تھا سو ایسا شخص نجات یاب ہے۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ فرماتا ہے : قُلْ اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَولُ المُسْلِمِينَ (سورہ انعام : ۱۳، ۱۶۴)۔کہہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری تمام اس اللہ کے واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا جس کا کوئی اللہ وا شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اول مسلمانوں کا ہوں۔پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ اس نجات کی علامات اپنی کتاب کریم میں لکھتا ہے کیونکہ گو جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی ایک حقیقی ناجی کے لئے مابہ الامتیاز ہے لیکن چونکہ دنیا کی آنکھیں اس باطنی نجات اور وصول الی اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں اور دنیا پر واصل اور غیر واصل کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے اسلئے اس کی نشانیاں بھی بتلا دیں کیونکہ یوں تو دنیا میں کوئی بھی فرقہ نہیں کہ اپنے تئیں غیر ناجی اور جہنمی قرار دیتا ہے کسی سے پوچھ کر دیکھ لیں بلکہ ہر ایک قوم کا آدمی جس کو پوچھو اپنی قوم کو اور اپنے مذہب کے لوگوں کو اول درجہ کا نجات یافتہ قرار دے گا۔اس صورت میں فیصلہ کیوں کر ہو تو اس فیصلہ کے لئے خدا تعالیٰ نے حقیقی اور کامل ایمانداروں اور حقیقی اور کامل نجات یافتہ لوگوں کے لئے علامتیں مقرر کر دی ہیں اور نشانیاں قرار دے دی ہیں تا دنیا شبہات میں مبتلا نہ رہے چنانچہ منجملہ ان نشانیوں کے بعض نشانیوں کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔الا إِنَّ أَوْلِيَاةِ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاهُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِيتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سوره يونس : ۶۳ تا ۶۵ ) یعنی خبر دار ہو تحقیق وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے وہ وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے یعنی اللہ رسول کے تابع ہو گئے اور پھر پرہیز گاری اختیار کی ان کے لئے خدا تعالی کی طرف سے اس دنیا کی زندگی اور نیز آخرت میں بشری ہے یعنی خدا تعالیٰ خواب اور الہام کے ذریعہ سے اور نیز مکاشفات سے ان کو بشارتیں دیتا رہے گا خدا تعالیٰ کے وعدوں میں مختلف نہیں اور یہ بڑی کامیابی ہے جو ان کے لئے مقرر ہو گئی