تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 226
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۶ سورة البقرة لَّمْ تَجِدُ قَالَ اجْتَهِدُ بِرَأَي فَقَالَ الْحَمْدُلِلهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُوْلَهُ بِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُوْلُهُ لَا يُقَالُ إِنَّهُ يُنَاقِضُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ فَكُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ فَكَيْفَ يُقَالُ فَإِن لَّمْ تَجِدُ فِي كِتَابِ اللهِ لِاَنَا نَقُولُ إِنَّ عَدُمَ الْوِجْدَانِ لَا يَقْضِي عَدُمَ كَوْنِهِ فِي الْقُرْآنِ وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِن لَّمْ تَجِدُ وَلَمْ يَقُلْ فَإِن لَّمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ۔اس عبارت مذکورہ بالا میں اس بات کا اقرار ہے کہ ہر ایک امر دین قرآن میں درج ہے کوئی چیز اس سے باہر نہیں اور اگر تفاسیر کے اقوال جو اس بات کے مؤید ہیں بیان کئے جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر چاہئے۔لہذا اصل حق الامر یہی ہے کہ جو چیز قرآن سے باہر یا اس کے مخالف ہے وہ مردود ہے اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استنباط بجز رسول اللہ یا اس شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کا کام نہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے۔مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۲، ۹۳) میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دُعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دُعا منظور کر لیتا ہے جو اُس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : مَا نَسَخ مِنْ آيَةٍ اَوْ تُنْسِهَا نَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۰) صبح کو ایک الہام ہوا تھا میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں پھر حافظہ پر بھروسہ کر کے نہ لکھا۔آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یاد کیا مطلق یاد نہ آیا دراصل یہی بات ہے۔مَا نَسحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ ( البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۵۰) مِثْلِهَا - ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے جو کامل اختیارات رکھتا ہے يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ۔ہمارا ایمان ہے کہ وہ جوتشی کی طرح نہیں وہ ایک حکم صبح دیتا اور رات کو اس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے مَا نَنْسَخ مِنْ اية والی آیت اس پر گواہ ہے۔آخر صدقہ خیرات بھی کوئی چیز ہے۔تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ و استغفار سے رد بلا ہوتا ہے بلا کیا چیز ہے یعنی وہ تکلیف وہ امر جو خدا کے ارادے میں مقدر ہو چکا ہے۔اب اس بلا کی اطلاع جب کوئی نبی دے۔تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وہ