تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 7

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بن جائے اور وہ مشکوتی نور دل میں پیدا ہو جاوے کہ جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے جس کو محصوفین دوسرے لفظوں میں روح قدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعالیٰ کی نافرمانی ایسی بالطبع بری معلوم ہوتی ہے جیسی وہ خود خدائے تعالیٰ کی نظر میں بُری ومکروہ ہے اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے بلکہ بجز خالق و مالک حقیقی ہر یک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے سو اس نور کے پیدا ہونے کے لئے ابتدائی انتقا جس کو طالب صادق اپنے ساتھ لاتا ہے شرط ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی علت غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ نہیں فرمایا که هدى لِلْفَاسِقِينَ يا هُدًى لِلْكَافِرِينَ ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے منتقی کا لفظ انسان پر صادق آسکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولی اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ربوبیت کاملہ مستجمعہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون :۱۵) کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے منتقلی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ر بویت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم ہے جس سے مشکلی لاہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور توند ثالث پاتا ہے۔(ازالہ اوبام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۸ تا ۵۶۰ حاشیه ) قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علت غائی ہی یہ قرار دی ہے کہ تقویٰ کی راہوں کو سکھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یه کتاب اس غرض سے اُتری ہے کہ تاجو لوگ گناہ سے پر ہیز کرتے ہیں ان کو باریک سے بار یک گناہوں پر بھی اطلاع دی جائے تاوہ ان بڑے کاموں سے بھی پر ہیز کریں جو ہر ایک آنکھ کو نظر نہیں آتے بلکہ فقط معرفت کی خوردبین سے نظر آ سکتے ہیں اور موٹی نگاہیں ان کے دیکھنے سے خطا کر جاتی ہیں مثلاً آپ کے یسوع صاحب کا قول متی نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو کوئی شہوت سے کسی عورت پر نگاہ کرے وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کر چکا لیکن قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ نہ تو شہوت سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر ہرگز نظر نہ ڈال اور ان کی باتیں مت سن اور ان کی آواز مت سن اور ان کے حسن کے قصے مت سن کہ ان امور سے پر ہیز کرنا تجھے ٹھوکر کھانے سے بچائے گا۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۶،۴۱۵) یہ کتاب جو شکوک و شبہات سے پاک ہے متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہے اور متقی وہ لوگ ہیں جو خدا پر