تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 6
3 سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوئے ہیں اور وہ کتاب وہی عالی شان اور مقدس کتاب ہے جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق بین دکھلاتی ہے اور ہر ایک قسم کی غلطیوں سے مبرا ہے جس کی پہلی صفت یہی ہے ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ اسی نے ہم پر ظاہر کیا ہے کہ خدا حق کے طالبوں کو مراتب یقینیہ سے محروم رکھ کر ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس رحیم وکریم نے ایسا اپنے ضعیف اور ناقص بندوں پر احسان کیا ہے کہ جس کام کو عقل ناقص انسان کی نہیں کر سکتی تھی اس نے وہ کام آپ کر دکھایا ہے۔اور جس درخت بلند تک بشر کا کو تہ ہاتھ نہیں پہنچتا تھا اس کے پھلوں کو اس نے اپنے ہاتھ سے نیچے گرایا ہے اور حق کے طالبوں کو اور سچائی کے بھوکے اور پیاسوں کو یقین کامل اور قطعی کا سامان عطا کر دیا ہے اور جو دینی صداقتوں کے ہزار ہا دقائق ذرات کی طرح روحانی آسمان کی دور دراز فضاؤں میں منتشر تھے اور جو زندگی کا پانی شبنم کی طرح متفرق طور پر انسانی سرشت کے ظلمات میں اور اس کی عمیق در عمیق استعدادات میں مخفی اور متجب تھا جس کو بمنصہ ظہور لانا اور نا پیدا کنار فضاؤں سے ایک جگہ اکٹھا کرنا انسانی عقل کی طاقتوں سے باہر تھا اور بشر کی ضعیف قوتوں کے پاس کوئی ایسا باریک اور غیب نما آلہ نہ تھا کہ جس کے ذریعہ سے انسان ان ادق اور پوشیدہ ذرات حقیقت کو کہ جن کو باستیفاء دیکھنے کے لئے بصارت وفا نہیں کرتی تھی اور جمع کرنے کے لئے عمر فرصت نہیں دیتی تھی آسانی سے دریافت اور حاصل کر لیتا ان سب لطائف حکمت و دقائق معرفت کو اس کامل کتاب نے بلا تفاوت و بلا نقصان و بلا سہو و بلا نسیان خدائی کی قدرت اور قوت سے اور رہبانیت کی طاقت اور حکومت سے ہمارے سامنے لا رکھا ہے تاہم اس پانی کو پی کر بچ جائیں اور موت کے گڑھے میں نہ پڑیں اور پھر کمال یہ کہ اس جامعیت سے اکٹھا کیا ہے کہ کوئی دقیقہ دقائق صداقت سے اور کوئی لطیفہ لطائف حکمت سے باہر نہیں رہا اور نہ کوئی ایسا امر داخل ہوا کہ جو کسی صداقت کے مبائن اور منافی ہو چنانچہ ہم نے منکرین کو ملزم اور رسوا کرنے کے لئے جابجا بصراحت لکھ دیا ہے اور بآواز بلند سنا دیا ہے کہ اگر کوئی برہمو قرآن شریف کے کسی بیان کو خلاف صداقت سمجھتا ہے یا کسی صداقت سے خالی خیال کرتا ہے تو اپنا اعتراض پیش کرے، ہم خدا کے فضل اور کرم سے اس کے وہم کو ایسا دور کر دیں گے کہ جس بات کو وہ اپنے خیال باطل میں ایک عیب سمجھتا تھا اس کا ہنر ہونا اس پر آشکارا ہو جائے گا۔براہین احمدیہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۲۳ تا ۳۲۷ حاشیہ نمبر ۱۱) یا درکھنا چاہئے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اول حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور برکت توجہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اس کا جز