تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 210

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة البقرة کے نفس میں پیدا ہو جائے۔اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیڑ یا رکھا ہے۔اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تمَّ كَلَامُهُمْ۔ایسا ہی عرف عام میں بھی جب یہ بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر خدا کی لعنت ہے۔تو ہر ایک ادنی اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ وہ شخص خدا کی نظر میں واقعی طور پر پلید باطن اور بے ایمان اور شیطان ہے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے روگردان ہے۔مجموعہ اشتہارات ، جلد ۲ صفحه ۴۱،۴۰) یعنی کا فر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ایسے رقیق اور پتلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔اللہ جل شانہ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت کا اثر ہے جو دلوں پر ہے یعنی لعنت جب کسی پر نازل ہوتی ہے۔اس کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ دل سخت ہو جاتا ہے اور گو کیسا ہی حق کھل جائے پھر انسان اس حق کو قبول نہیں کرتا۔(مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۳۲۶٫۳۲۵) وَ لَمَّا جَاءَهُم كِتَبُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ ا لا يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ على الكفرين۔كَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ۔اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے نصرت دین کے لئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا اگر چہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خدا تعالی کی نظر سے گر گئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مر گیا اور اس میں حقیقت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہو گئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ ہمیشہ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہو گا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ملک عرب میں آ رہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَ هُمُ (البقرة : ۱۴۷) یعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہو گیا۔تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہو گئے۔مگر بعض سعادت مند مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا۔ضرورت الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۶)