تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 174

۱۷۴ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام گے مگر خدا کے وعدہ کے موافق جو أُولَبِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (الأنبياء : ۱۰۲) ہے برگزیدہ لوگ اس دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔اسی طرح طاعون بھی ایک جہنم ہے کا فراس میں عذاب دینے کے لئے ڈالے جاتے ہیں۔اور ایسے مومن جن کو معصوم نہیں کہہ سکتے اور معاصی سے پاک نہیں ہیں اُن کے لئے یہ طاعون پاک کرنے کا ذریعہ ہے جس کو خدا نے جہنم کے نام سے پکارا ہے۔سو طاعون ادنی مومنوں کے لئے تجویز ہو سکتی ہے جو پاک ہونے کے محتاج ہیں۔مگر وہ لوگ جو خدا کے قرب اور محبت میں بلند مقامات پر ہیں وہ ہر گز اس جہنم میں داخل نہیں ہو سکتے۔(ضمیمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴۲ تا ۵۴۴) لوگوں کو طاعون کی خبر نہیں وہ اس کو نزلہ زکام کی طرح ایک عام مرض سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا نام رجز رکھا ہے۔رجز عذاب کو بھی کہتے ہیں۔لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اونٹ کی بٹن ران میں یہ مرض ہوتا ہے اور اس میں ایک کیڑا پڑ جاتا ہے۔جسے نغف کہتے ہیں۔اس سے ایک لطیف نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ اونٹ کی وضع میں ایک قسم کی سرکشی پائی جاتی ہے تو اس سے یہ پایا گیا کہ جب انسانوں میں وہ سرکشی کے دن ہے پائے جاویں تو یہ عذاب الیم اُن پر نازل ہوتا ہے۔اور رجز کے معنے لغت میں دوام کے بھی آئے ہیں اور یہ مرض بھی دیر پا ہوتا ہے اور گھر سے سب کو رخصت کر کے نکلتا ہے۔اس میں یہ بھی دکھایا ہے کہ یہ بلاگھروں کی صفائی کرنے والی ہے، بچوں کو یتیم بناتی اور بے شمار بے کس عورتوں کو بیوہ کر دیتی ہے۔اور رجز کے معنے میں غور کرنے سے اس کا باعث بھی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ مرض پلیدی اور ناپاکی سے پیدا ہوتا ہے۔جہاں اچھی صفائی نہیں ہوتی۔مکان کی دیوار میں بدنما اور قبروں کا نمونہ ہیں۔نہ روشنی ہے نہ ہوا آسکتی ہے۔وہاں عفونت کا زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس سے یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں جو آیا ہے: وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر (۲)۔ہر ایک قسم کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔ھجر دور چلے جانے کو کہتے ہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لئے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے۔کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔دو حالتیں ہیں۔جو باطنی حالت تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونا چاہتے ہیں۔وہ ظاہری پاکیزگی بھی چاہتے ہیں۔(رسالہ الانذار صفحہ ۷،۶۔باراوّل) طاعون کا تذکرہ شروع ہوتے ہی فرمایا کہ قرآن شریف میں اس کو جزا مِنَ السَّمَاءِ کہا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پر انسانی ہاتھ نہیں پڑ سکتا اور نہ زمینی تدابیر اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں ورنہ یہ عذاب