تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 155
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة البقرة سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عرب اسمہ سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے یہی طریق اہل حق ہے جس سے خدائے تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے۔ (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰۳، ۱۰۴) طریق عبودیت یہی ہے کہ سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا کہنے والوں کے ساتھ ہو۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۹۱) خدا کا نام علیم ہے اور پھر قرآن میں آیا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن : ۲، ۳) اسی لئے ملائکہ نے کہا۔ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا - الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۲) وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حُسن ہیں ۔ ایک حُسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امر حتی الوسع اُن کے متعلق فوت نہ ہو۔۔۔۔۔ دوسر احسن انسان کی پیدائش میں حُسنِ بشرہ ہے۔ اور یہ دونوں حُسن اگر چہ رُوحانی اور جسمانی پیدائش درجہ پنجم میں نمودار ہو جاتے ہیں لیکن آب و تاب اُن کی فیضانِ رُوح کے بعد ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ جسمانی وجود کی رُوح جسمانی قالب طیار ہونے کے بعد جسم میں داخل ہوتی ہے ایسا ہی روحانی وجود کی روح روحانی قالب طیار ہونے کے بعد انسان کے روحانی وجود میں داخل ہوتی ہے۔ یعنی اُس وقت جب کہ انسان شریعت کا تمام جوا اپنی گردن پر لے لیتا ہے اور مشقت اور مجاہدہ کے ساتھ تمام حدود الہیہ کے قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اور ورزش شریعت اور بجا آوری احکام کتاب اللہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خُدا کی روحانیت اس کی طرف توجہ فرماوے اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنی محبت ذاتیہ سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کا مستحق ٹھہرالیہ ہے جو برف کی طرح سفید اور شہد کی طرح شیریں ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وجود روحانی خشوع کی حالت سے شروع ہوتا ہے اور روحانی نشوونما کے چھٹے مرتبہ پر یعنی اس مرتبہ پر کہ جب کہ روحانی قالب