تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 153

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة البقرة اور یہ الہام کہ یا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے۔اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس قانونِ قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے مجھے آدم کی خُو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہے چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گذرے منجملہ اُن کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری پیدائیش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی۔۔۔اہل کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ آخری مہدی جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا خدا سے براہِ راست ہدایت پائے گا جس طرح آدم نے خدا سے ہدایت پائی اور وہ اُن علوم اور اسرار کا حامل ہوگا جن کا آدم خدا سے حامل ہوا اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہوگی کہ وہ بھی زوج کی صورت پیدا ہوگا یعنی مذکر اور موکٹ دونوں پیدا ہوں گے جس طرح آدم کی پیدائیش تھی کہ اُن کے ساتھ ایک موکٹ بھی پیدا ہوئی تھی یعنی حضرت حوا علیہا السلام۔اور خدا نے جیسا کہ ابتدا میں جوڑا پیدا کیا مجھے بھی اس لئے جوڑا پیدا کیا کہ تا اولیت کو آخریت کے ساتھ مناسبت نام پیدا ہو جائے یعنی چونکہ ہر ایک وجود سلسلہ بروزات میں دور کرتا رہتا ہے اور آخری بروز اُس کا بہ نسبت درمیانی بروزات کے اتم اور اکمل ہوتا ہے اس لئے حکمتِ الہیہ نے تقاضا کیا کہ وہ شخص کہ جو آدم صفی اللہ کا آخری بروز ہے وہ اس کے واقعات سے اشد مناسبت پیدا کرے۔سو آدم کا ذاتی واقعہ یہ ہے کہ خدا نے آدم کے ساتھ حوا کو بھی پیدا کیا سو یہی واقعہ بروز اتم کے مقام میں آخری آدم کو پیش آیا کہ اس کے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا کی گئی اور اُسی آخری آدم کا نام عیسی بھی رکھا گیا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ حضرت عیسی کو بھی آدم صفی اللہ کے ساتھ ایک مشابہت تھی لیکن آخری آدم جو بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہے آدم صفی اللہ سے اشد مشابہت رکھتا ہے کیونکہ آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم اور اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۵ میں میری نسبت ایک یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ