تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة البقرة۔ہے جاندار ایک تو تکون سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک تکوین سے ممکن ہے کہ آدم کی پیدائیش کے وقت اور مخلوقات ہو اور اس کی جنس سے نہ ہو یا اگر ہو بھی تو اس میں کیا ہرج ہے کہ قدرت نمائی کے لئے خدا تعالیٰ نے حوا کو بھی ان کی پسلی سے پیدا کر دیا۔( بدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۷) یہ الہام جو میری نسبت ہوا۔یعنی يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدھ۔جس کے یہ معنے ہیں کہ اے آدم تو اپنے جوڑے کے ساتھ جنت میں رہ، میں نے چاہا کہ میں اپنا مظہر دکھلاؤں اس لئے میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدم صفی اللہ کے وجود کا سلسلہ دور یہ اس عاجز کے وجود پر آکر ختم ہو گیا۔یہ بات اہل حقیقت اور معرفت کے نزدیک مسلم ہے کہ مراتب وجود دور یہ ہیں یعنی نوع انسان میں سے بعض بعض کی خو اور طبیعت پر آتے رہتے ہیں جیسا کہ پہلی کتابوں سے ثابت ہے کہ ایلیا سیلی نبی کی خو اور طبیعت پر آ گیا اور جیسا کہ ہمارے نبی علیہ السلام حضرت ابراہیم کی خُو اور طبیعت پر آئے۔اسی ستر کے لحاظ سے یہ ملتِ محمدی ابراہیمی ملت کہلائی۔سوضرور تھا کہ مرتبہ آدمیت کی حرکت دوری زمانہ کے انتہا پر ختم ہوتی۔سو یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا۔۔۔۔اور پہلے آدم کی طرح خدا نے اس آدم کو بھی زمین کے حقیقی انسانوں سے خالی ہونے کے وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں جلالی اور جمالی سے پیدا کر کے اس میں اپنی روح پھونکی کیونکہ دنیا میں کوئی روحانی انسان موجود نہ تھا جس سے یہ آدم روحانی تولد پاتا۔اس لئے خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور۔ظاہری پیدائیش کے رُو سے اسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا یعنی اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا جیسا کہ الہام يا آدَمُ اسْكُن انتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے اپنی جسمانی خلقت کے رُو سے جوڑا پیدا ہوگا یعنی آدم صفی اللہ کی طرح مذکر اور مؤنث کی صورت پر پیدا ہوگا اور خاتم الاولاد ہوگا کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔سوضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔اب یادر ہے کہ اس بندہ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی۔یعنی میں تو ام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا۔