تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ سورة البقرة اشارات قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں۔کیونکہ لکھا ہے کہ قریب ہے کہ اس دین کے غلبہ کے وقت آسمان پھٹ جائیں اور زمین میں بذریعہ خسف وغیرہ ہلاکتیں واقع ہوں۔غرض وجود آدم ثانی بھی جامع جلال و جمال ہے اور اسی وجہ سے آخر ہزار ششم میں پیدا کیا گیا اور ہزارششم کے حساب سے دنیا کے دنوں کا یہ جمعہ ہے اور جمعہ میں سے یہ عصر کا وقت ہے جس میں یہ آدم پیدا ہوا۔اور سورۃ فاتحہ میں اس مقام کے متعلق ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ چونکہ سورۃ فاتحہ ایک ایسی سورۃ ہے جس میں مہدہ اور معاد کا ذکر ہے یعنی خدا کی ربوبیت سے لے کر یوم الدین تک سلسلہ صفات الہیہ کو پہنچایا ہے اس مناسبت کے لحاظ سے حکیم ازلی نے اس سورۃ کو سات آیتوں پر تقسیم کیا ہے تا دنیا کی عمر میں سات ہزار کی طرف اشارہ ہو۔اور چھٹی آیت اس سورة كى اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو اور ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی۔(تحف گولڑوی، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۹ تا ۲۸ حاشیه) آدم عصر کے وقت چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔اس وقت مشتری کا دورہ ختم ہو کر زُحل کا شروع ہونے والا تھا چونکہ زحل کی تاثیرات خون ریزی اور سفا کی ہیں۔اس لئے ملائکہ نے اس خیال سے کہ یہ زحل کی تاثیرات کے اندر پیدا ہوگا یہ کہا: اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس طرح انسان ارضی تاثیرات اور بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتا ہے اس طرح پر آسمانی مخلوق آسمانی تاثیرات سے باخبر ہوتی ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً سے استنباط ایسا ہو سکتا ہے کہ پہلے سے اس وقت کوئی قوم موجود ہو اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَالْجَانَّ خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّومِ (الحجر : ۲۸) ایک قوم جان بھی آدم سے پہلے موجود تھی بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے۔اور یہی حق ہے کیونکہ اگر خدا کو ہمیشہ سے خالق نہ مانیں تو اس کی ذات پر ( نعوذ باللہ ) حرف آتا ہے اور ماننا پڑے گا کہ آدم سے پیشتر خدا تعالیٰ معطل تھا لیکن چونکہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کی صفات کو قدیمی بیان کرتا ہے اسی لئے اس حدیث کا مضمون راست ہے قرآن میں جو کوئی ترکیب ہے وہ ان صفات کے استمرار پر دلالت کرتی ہیں لیکن اگر آدم سے ابتدائے خلق ہوتی اور اس سے پیشتر نہ ہوتی تو پھر یہ نحوی ترکیب قرآن