تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 144
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة البقرة ہاتھ میں ہیں۔پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تر بد اور سقمونیا اور خیارشنبر کی تاثیرات کا تو قائل ہے مگر اُن ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اول درجہ پر سیلتی گاہ اور مظہر العجائب ہیں جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے حفظا کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ لوگ جو سرا پا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں نہیں جانتے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت یہی ہے جو کوئی چیز اس نے لغو اور بے فائدہ اور بے تاثیر پیدا نہیں کی جبکہ وہ فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے تو اب بتلاؤ کہ سَمَاءَ الدُّنْیا کو لاکھوں ستاروں سے پر کر دینا انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے ؟ اور خدا کا یہ کہنا کہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ضرور ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان چیزوں کے اندر خاص وہ تاثیرات ہیں جو انسانی زندگی اور انسانی تمدن پر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔جیسا کہ متقدمین حکماء نے لکھا ہے کہ زمین ابتدا میں بہت ناہموار تھی خدا نے ستاروں کی تاثیرات کے ساتھ اس کو درست کیا ہے اور یہ ستارے جیسا کہ یہ جاہل لوگ سمجھتے ہیں آسمان دنیا پر ہی نہیں ہیں بلکہ بعض بعض سے بڑے بڑے بُعد پر واقع ہیں اسی آسمان میں مشتری نظر آتا ہے جو چھٹے آسمان پر ہے ایسا ہی زُحل بھی دکھائی دیتا ہے جو ہفتم آسمان پر ہے اور اسی وجہ سے اس کا نام زُحل ہے جو اس کا بُعد تمام ستاروں سے زیادہ ہے کیونکہ لغت میں راحل بہت دُور ہونے والے کو بھی کہتے ہیں۔اور آسمان سے مراد وہ طبقات الطیفہ ہیں جو بعض بعض سے اپنے خواص کے ساتھ متمیز ہیں۔یہ کہنا بھی جہالت ہے کہ آسمان کچھ چیز نہیں کیونکہ جہاں تک عالم بالا کی طرف سیر کی جائے محض خلا کا حصہ کسی جگہ نظر نہیں آئے گا۔پس کامل استقراء جو مجہولات کی اصلیت دریافت کرنے کے لئے اول درجہ پر ہے صریح اور صاف طور پر سمجھاتا ہے کہ محض خلا کسی جگہ نہیں ہے۔اور جیسا کہ پہلا آدم جمالی اور جلالی رنگ میں مشتری اور زحل کی دونوں تاثیریں لے کر پیدا ہوا اسی طرح وہ آدم جو ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہوا وہ بھی یہ دونوں تاثیریں اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کے پہلے قدم پر مردوں کا زندہ ہونا ہے اور دوسرے قدم پر زندوں کا مرنا ہے یعنی قیامت میں۔خدا نے اس کے وقت میں رحمت کی نشانیاں بھی رکھی ہیں اور قبر کی بھی تا دونوں رنگ جمالی اور جلالی ثابت ہو جائیں۔آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالی کا یہ فرمانا کہ آفتاب اور ماہتاب ایک ہی وقت میں تاریک ہو جائیں گے زمین پر جابجا خسف واقع ہوگا۔پہاڑ اڑائے جائیں گے۔یہ سب قہری اور جلالی نشانیاں ہیں۔عیسائیت کے غلبہ کے زمانہ کی نسبت بھی اسی قسم کے