تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 143

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۴۳ سورة البقرة احادیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان بہت دُعا کرو کہ اس میں ایک گھڑی ہے جس میں دُعا قبول ہوتی ہے۔یہ وہی گھڑی ہے جس کی فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی۔اس گھڑی میں جو پیدا ہو وہ آسمان پر آدم کہلاتا ہے اور ایک بڑے سلسلہ کی اس سے بنیاد پڑتی ہے۔سو آدم اسی گھڑی میں پیدا کیا گیا۔اس لئے آدم ثانی یعنی اس عاجز کو یہی گھڑی عطا کی گئی۔اسی کی طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ يَنقَطِعُ ابَاتُكَ وَيُبْدَه مِنك دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۰۔اور یہ اتفاقات عجیبہ میں سے ہے کہ یہ عاجز نہ صرف ہزار ششم کے آخری حصہ میں پیدا ہوا جو مشتری سے وہی تعلق رکھتا ہے جو آدم کا روز ششم یعنی اس کا آخری حصہ تعلق رکھتا تھا بلکہ یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔اس جگہ ایک اور بات بیان کرنے کے لائق ہے کہ اگر یہ سوال ہو کہ جمعہ کی آخری گھڑی جو عصر کے وقت کی ہے جس میں آدم پیدا کیا گیا کیوں ایسی مبارک ہے اور کیوں آدم کی پیدائش کے لئے وہ خاص کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیر کو اکب کا نظام ایسا رکھا ہے کہ ایک ستارہ اپنے عمل کے آخری حصہ میں دوسرے ستارے کا کچھ اثر لے لیتا ہے جو اس حصے سے ملحق ہو اور اس کے بعد میں آنے والا ہو۔اب چونکہ عصر کے وقت سے جب آدم پیدا کیا گیا رات قریب تھی لہذاوہ وقت زحل کی تاثیر سے بھی کچھ حصہ رکھتا تھا اور مشتری ؛ سے بھی فیضیاب تھا جو جمالی رنگ کی تاثیرات اپنے اندر رکھتا ہے۔سوخدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا کیونکہ اس کو منظور تھا کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بناوے جیسا کہ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بِیدَی (ص: ۷۶) یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھ سے پیدا کیا ہے ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں۔پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تخلی ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی تحیلی کا جامع پیدا کیا گیا اور چونکہ اللہ تعالی علمی سلسلہ کو ضائع کرنا نہیں چاہتا اس لئے اُس نے آدم کی پیدائش کے وقت ان ستاروں کی تاثیرات سے بھی کام لیا ہے جن کو اس نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔اور یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں جیسا کہ آیت وَزَيَّنَا السَّمَاةِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظا ( حم السجدة: ۱۳) سے یعنی حفظاً کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے اُسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔یہ چیزیں بجز اڈن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ان کی تاثیرات خدا تعالی کے