تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 142
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورة البقرة الْأَلْفِ السَّادِسِ أَعْنِي فِي هَذَا الْحَيْنِ معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے كَمَا خُلِقَ آدَمُ في آخِرِ الْيَوْمِ السَّادِس باذن ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تخلی اللهِ أَحْسَنِ الْخَالِقِينَ۔وَاتَّخَذَتْ رُوحَانِيَّةُ فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین نَبِيْنَا خَيْرٍ الرُّسُلِ مَظهَرًا مِن أُمَّتِهِ لِتَبْلُغَ خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت كَمَالَ ظُهُورِهَا وَغَلَبَةً نُوْرِهَا كَمَا كَانَ وَعْدُ نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ الله في الْكِتَابِ الْمُبِيْنِ فَأَنَا ذَالِكَ الْمَظْهَرُ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے الْمَوْعُودُ وَالنُّورُ الْمَعْهُودُ۔فَأمِن وَلَا تَكُن كتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا پس میں وہی مظہر ہوں پس ایمان لا اور کافروں سے مت ہو۔مِنَ الْكَافِرِينَ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۵۹ تا ۲۶۷) فرشتوں کا جناب الہی میں عرض کرنا کہ کیا تو ایک مفسد کو خلیفہ بنانے لگا ہے؟ اس کے کیا معنے ہیں؟ پس واضح ہو کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے چھٹے دن آسمانوں کے سات طبقے بنائے اور ہر ایک آسمان کے قضاء وقدر کا انتظام فرمایا اور چھٹا دن جو ستارہ سعد اکبر کا دن ہے یعنی مشتری کا دن قریب الاختتام ہو گیا اور فرشتے جن کو حسب منطوق آیت وَ أوحى فِي كُلِّ سَمَاءِ اَمرَهَا ( حم السجدة : ۱۳) سعد و حس کا علم دیا گیا تھا اور ان کو معلوم ہو چکا تھا کہ سعد اکبر مشتری ہے اور انہوں نے دیکھا کہ بظاہر اس دن کا حصہ آدم کو نہیں ملا کیونکہ دن میں سے بہت ہی تھوڑا وقت باقی ہے سو یہ خیال گزرا کہ اب پیدائش آدم کی زُحل کے وقت میں ہوگی اس کی سرشت میں ڈھلی تاثیریں جو قہر اور عذاب وغیرہ ہے رکھی جائیں گی اس لئے اس کا وجود بڑے فتنوں کا موجب ہوگا۔سو بناء اعتراض کی ایک خلفی امر تھا نہ یقینی۔اس لئے نطقی پیرا یہ میں انہوں نے انکار کیا اور عرض کیا کہ کیا تو ایسے شخص کو پیدا کرتا ہے جو مفسد اور خونریز ہوگا اور خیال کیا کہ ہم زاہد اور عابد اور تقدیس کرنے والے اور ہر ایک بدی سے پاک ہیں اور نیز ہماری پیدائش مشتری کے وقت میں ہے جو سعد اکبر ہے تب ان کو جواب ملا کہ ائی اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ یعنی تمہیں خبر نہیں کہ میں آدم کو کس وقت بناؤں گا۔میں مشتری کے وقت کے اُس حصے میں اس کو بناؤں گا جو اُس دن کے تمام حصوں میں سے زیادہ مبارک ہے اور اگر چہ جمعہ کا دن سعدا کبر ہے لیکن اس کے عصر کے وقت کی گھڑی ہر ایک اس کی گھڑی سے سعادت اور برکت میں سبقت لے گئی ہے۔سو آدم جمعہ کی اخیر گھڑی میں بنایا گیا۔یعنی عصر کے وقت پیدا کیا گیا اسی وجہ سے