تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 137

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۷ سورة البقرة يَفْهَمَ هَذِهِ الْحَقِيقَةَ وَيَجْعَلَهَا عَيْنَ کا عین قرار دے اور اس حقیقت کو اپنے نفس کے اندر داخل الْمَقْصُودِ وَيُدْخِلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّی کرے یہاں تک کہ وہ حقیقت ہر ذرہ وجود میں داخل ہو تَسْرِيَ فِي كُلِّ ذَرَّةِ الْوَجُودِ وَلَا يَهْدَهُ وَلَا جائے اور راحت و آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس يَسْكُنُ قَبْلَ آدَاءِ هَذِهِ الضَّحِيَّةِ لِلرَّبِ قربانی کو اپنے رب معبود کے لئے ادا نہ کرلے اور جاہلوں الْمَعْبُودِ وَلَا يَقْنَعُ بِنَمُوذَجِ وَقِشْرِ اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے مغز پر كَالْجُهَلَاءِ وَالْعُمْيَانِ بَلْ يُؤَدِّى حَقِيقَةً قناعت نہ کر بیٹھے بلکہ چاہئے کہ اپنی قربانی کی حقیقت کو أَضْحَاتِهِ وَيَقْضِي بِجَمِيعِ حَصَاتِهِ وَرُوحِ بجالا وے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ اور اپنی پر ہیز گاری کی روح سے قربانی کی روح کو ادا کرے۔ تُقَاتِهِ رُوحَ الْقُرْبَانِ هَذَا هُوَ مُنْتَهى سُلُوكِ السَّالِكِينَ وَ یہ وہ درجہ ہے جس پر سالکوں کا سلوک انتہا پذیر غَايَةُ مَقْصَدِ الْعَارِفِينَ وَعَلَيْهِ يَخْتَتِمُ ہوتا ہے اور عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا ہے ۔ اور جَمِيعُ مَدَارِجِ الْأَنْقِيَاءِ وَبِهِ يَكْمُلُ سَائِرُ اس پر تمام درجے پر ہیز گاروں کے ختم ہو جاتے ہیں اور مَرَاحِلِ الصَّدِيقِينَ وَالْأَصْفِيَاءِ وَإِلَيْهِ سب منزلیں راستبازوں اور برگزیدوں کی پوری ہو جاتی يَنْتَهِي سَيْرُ الْأَوْلِيَاءِ وَإِذَا بَلَغْتَ إِلى هذا ہیں اور یہاں تک پہنچ کر سیر اولیاء کا اپنے انتہائی نقطہ تک فَقَدْ بَلَّغْتَ جُهْدَكَ إِلَى الْاِنْتِهَاءِ وَفُرْتَ جا پہنچتا ہے اور جب تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تو نے اپنی بِمَرْتَبَةِ الْفَنَاءِ فَحِينَئِذٍ تَبْلُغُ شَجَرَةُ کوشش کو انتہا تک پہنچادیا اور فنا کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔ پس سُلُوكِكَ إِلَى أَتَمَّ النَّمَاءِ وَ تَصِلُ عُنْقُ اس وقت تیرے سلوک کا درخت اپنے کامل نشو و نما تک رُوْحِكَ إِلى لُعَاعِ رَوْضَةِ الْقُدُسِ وَ پہنچ جائے گا اور تیری روح کی گردن تقدس اور بزرگی کے الْكِبْرِيَاءِ كَالنَّاقَةِ الْعَنْقَاءِ إِذَا أَوْ صَلَتْ مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ جائے گی ۔ اُس اونٹنی کی مانند عُنُقَهَا إِلَى الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ وَ بَعْدَ ذَالِك جس کی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو ایک سبز جَذَبَاتٌ وَنَفَحَاتٌ وَ تَجَلِّيَاتٌ مِنَ الْحَضْرَةِ درخت تک پہنچا دیا ہو اور اس کے بعد حضرت احدیت الْأَحْدِيَّةِ لِيَقْطَعَ بَعْضَ بَقَايَا عُرُوقِ کے جذبات ہیں اور خوشبوئیں ہیں اور تجلیات ہیں تا وہ الْبَشَرِيَّةِ وَبَعْدَ ذَالِكَ احْيَاء وَ ابْقَاء بعض ان رگوں کو کاٹ دے کہ جو بشریت میں سے باقی وَادْنَاءُ لِلنَّفْسِ الْمُطْمَئِنَّةِ الرَّاضِيَةِ رہ گئی ہوں اور بعد اس کے زندہ کرنا ہے اور باقی رکھنا اور