تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 133

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورة البقرة کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجود یہ میں بکتی فساد راہ پا جانا لازمی وضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں وہ کائنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں۔غرض یہ نہایت بچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کو اکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثر ہیں۔اب جبکہ ظاہری سلسلہ کا ئنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلفہ سے تربیت پا رہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باز نہ تعالیٰ وہ نفوس نورا نیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔اب اس کے بعد یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگرچہ بظاہر یہ بات نہایت دور از ادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ : انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آ جائے گا کہ اس میں کوئی شوہ ادب کی بات نہیں بلکہ سراسر خدائے تعالیٰ کے اس عام قانونِ قدرت کے مطابق ہے جو دنیا کی ہر یک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود ومحسوس ہو رہا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اور ظاہری قومی کے لحاظ سے انہیں وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی آنکھ بھی گوکیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتی اور بغیر توسط ہوا کے کچھ ٹن نہیں سکتے لہذا یہ بات بھی ضروری طور پر مانی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہوگا بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیوں کہ جس قدر استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کو اکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کو کب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہر یک چیز پر حسب استعداداثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے خواص ہیں جو پاتن حکیم مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں اور یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور