تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 124
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام المولد سورة البقرة ہوں اور گلاب کے ساتھ وجع مفاصل کو مفید ہوں اور سنگ گردہ اور مثانہ کو نافع ہوں اگر بول بند ہو جائے تو شیرہ تخم خیارین کے ساتھ جلد اس کو کھول دیتی ہوں اور قولنج ریحی کو مفید ہوں اور اگر بچہ پیدا ہونے میں مشکل پیش آجائے تو آب عنب الثعلب یا حلبہ یا شیرہ خارخسک کے ساتھ صرف دو دانگ پلانے سے وضع حمل کرا دیتی ہوں اور ام الصبیان اور اکثر امراض دماغی اور اعصابی کو مفید ہوں اور اور ام مغابن یعنی پس گوش اور زیر بغل اور بٹن ران اور خناق اور خنازیر اور تمام اور ام گلوکو نفع پہنچاتی ہوں اور طاعون کے لئے مفید ہوں اور سرکہ کے ساتھ پلکوں کے ورم کو نفع دیتی ہوں اور دانتوں پر ملنے سے ان کے اس درد کو دور کر دیتی ہوں جو بوجہ مادہ باردہ ہو اور بواسیر پر ملنے سے اس کی درد کو ساکن کر دیتی ہوں اور آنکھ میں چکانے سے رمد بارد کو دور کر دیتی ہوں اور احلیل میں چکانے سے نافع حبس البول ہوں اور مشک وغیرہ ادویہ مناسبہ کے ساتھ باہ کیلئے سخت مؤثر ہ اور صرع اور سکتہ اور فالج اور لقوہ اور استرخاء اور رعشہ اور خدر اور اس قسم کی تمام امراض کو نافع ہوں اور اعصاب اور دماغ کے لئے ایک اکسیر ہوں اور اگر میں نہ ملوں تو اکثر باتوں میں زرنباد میرا قائم مقام ہے۔ غرض یہ تمام چیزیں بزبانِ حال اپنی اپنی تعریف کر رہی ہیں اور محجوب بانفسہا ہیں یعنی اپنے خواص کے پردہ میں محبوب ہیں اس لئے مبدء فیض سے دور پڑ گئی ہیں اور بغیر ایسی چیزوں کے توسط کے جو ان حجابوں سے منزہ ہوں مبدء فیض کا کوئی ارادہ ان سے تعلق نہیں پکڑ سکتا کیونکہ حجاب اس فیض سے مانع ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ اس کی ارادات کا مظہر اول بننے کے لئے ایک ایسی مخلوق ہو جو محجوب بنفسہ نہ ہو بلکہ اس کی ایک ایسی نرالی خلقت ہو جو بر خلاف اور چیزوں کے اپنی فطرت سے ہی ایسی واقع ہو کہ نفس حاجب سے خالی اور خدا تعالیٰ کے لئے اس کے جوارح کی طرح ہو۔ اور خدا تعالیٰ کے جمیع ارادات کے موافق جو مخلوق اور مخلوق کے کل عوارض سے تعلق رکھتے ہیں اس کی تعداد ہو اور وہ نرالی پیدائش کی چیزیں مرا یا صافیہ کی طرح اپنی فطرت رکھ کر ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنے وجود میں زوجہتین ہوں۔ ایک جہت تجرد اور تنزہ کی جو اپنے وجود میں وہ نہایت الطف اور منزہ عن الحجب ہوں جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوق سے نرالی اور خدا تعالیٰ کے وجود سے خالی طور پر مشابہت تامہ رکھتے ہوں اور محجوب بانفسہا نہ ہوں۔ دوسری جہت مخلوقیت کی جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوقات سے مناسبت رکھیں اور اپنی تاثیرات کے ساتھ ان سے نزدیک ہوسکیں۔ سوخدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے اس عجیب مخلوق کا وجود ہو گیا جس کو ملائک کہتے ہیں۔ یہ ملائک ایسے فنا فی طاعت اللہ ہیں کہ اپنا ارادہ اور فیشن اور توجہ اور اپنے ذاتی قوی یعنی یہ کہ اپنے نفس سے کسی