تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 110

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۰ سورة البقرة ہیں وہ لذت جو خدا کی طرف سے اُس کی عبادت میں حاصل ہوتی ہے وہ اور ہے اور جو اکل و شرب اور جماع وغیرہ میں حاصل ہوتی ہے وہ اور ہے۔ لکھا ہے کہ اگر ایک عارف دروازہ بند کر کے اپنے مولیٰ سے راز و نیاز کر رہا ہو تو اسے اپنی عبادت اور اس راز و نیاز کے اظہار کی بڑی غیرت ہوتی ہے اور وہ ہرگز اُس کا افشاء پسند نہیں کرتا۔ اگر اس وقت کوئی دروازہ کھول کر اندر چلا جاوے تو وہ ایسا ہی نادم اور پشیمان ہوتا ہے جیسے زانی زنا کرتا پکڑا جاتا ہے۔ جب اس لذت کی حد کو انسان پہنچ جاتا ہے تو اس کا حال اور ہوتا ہے اور اسی حالت کو وہ یاد کر کے وہ جنت میں کہے گا کہ رزقنا من قبل بہشتی زندگی کی بنیاد یہی دنیا ہے۔ بعد مرنے کے جب انسان بہشت میں داخل ہوگا تو یہی کیفیت اور لذت اُسے یاد آوے گی تو اسی بات کا طالب ہر ایک کو ہونا چاہئے ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۳۴، ۳۳۵) قرآن شریف میں وعدہ کیا ہے کہ مرنے کے بعد جو صالح ہوگا بہشت میں جائے گا۔ بظاہر یہ وعدہ قصہ معلوم ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ قصہ نہیں گو قصہ کا رنگ اختیار کیا گیا اصل میں عرب کے لوگ الهیات و روحانیات میں ) بچوں کی طرح تھے۔ خدا تعالیٰ نے استعارہ کا رنگ قریب الفہم الفہم کے کرنے کے لئے اختیار کیا خدا تعالیٰ نے دوسرے موقعہ پر فرمادیا : مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ (الرعد : ٣٦) یعنی سب کچھ اس جنت کی مثال ہے دوسری جگہ رسول اکرم کی زبان پر فرمایا : ما لَا عَيْنَ رَأَتُ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ - اس جگہ دودھ اور شہد کی نہریں نہ ہوں گی پھر فرمایا: وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ - اے رسول ! بشارت دے دے ان ایمانداروں اور عمل صالح کرنے والوں کو، ان کے لئے باغ ہیں ، چلتی ہیں اُن کے نیچے نہریں۔ پھر فرمایا : مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراهيم : ۲۵) کلمہ طیبہ درخت کی مثال ہے اب اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا کہ وہ ایمان جو ہے وہ بطور تخم اور شجر کے ہے اور اعمال جو ہیں وہ آبپاشی کی بجائے ہیں۔ ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ رجون ۱۹۰۸ صفحه ۵،۴ ) اس آیت میں ایمان کو اعمالِ صالحہ کے مقابل پر رکھا ہے جنات اور انہار یعنی ایمان کا نتیجہ تو جنت ہے اور اعمالِ صالحہ کا نتیجہ انہار ہیں۔ پس جس طرح باغ بغیر نہر اور پانی کے جلدی برباد ہو جانے والی چیز ہے اور دیر پا نہیں اسی طرح ایمان بے عمل صالح بھی کسی کام کا نہیں۔ پھر ایک دوسری جگہ پر ایمان کو اشجار ( درختوں ) سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ ایمان جس کی طرف مسلمانوں کو بلایا جاتا ہے وہ اشجار ہیں اور اعمالِ صالحہ اُن