تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة البقرة طور پر پیا جائے گا اس کو یہ پینا اس وقت یاد آ جائے گا جبکہ وہی پیالہ جسمانی طور پر اس کو دیا جائے گا۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس نعمت سے دنیا کی آنکھ اور کان وغیرہ کو بے خبر سمجھے گا۔چونکہ وہ دنیا میں تھا اگر چہ دنیا میں سے نہیں تھا اس لئے وہ بھی گواہی دے گا کہ دنیا کی نعمتوں سے وہ نعمت نہیں۔نہ دنیا میں اس کی آنکھ نے ایسی نعمت دیکھی نہ کان نے سنی اور نہ دل میں گزری۔لیکن دوسری زندگی میں اس کے نمونے دیکھے جو دنیا میں سے نہیں تھے بلکہ وہ آنے والے جہاں کی ایک خبر تھی اور اُسی سے اُس کا رشتہ اور تعلق تھا دنیا سے کچھ تعلق نہیں تھا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۶ تا ۴۰۰) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، بجھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گو یا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اُس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہوکر نشو و نما پائیں گے اور وہ اثمار شیر میں وطیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَابِم (الرعد: ۳۶) کے مصداق ہوں گے۔یاد رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے اس کا دل عرشِ الہی بنتا ہے اور اللہ تعالی اس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو۔جس میں روحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی ھذا الَّذِى رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالتِ تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۹) قرآن شریف نے جہاں بہشت کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں پہلے ایمان کا تذکرہ کیا ہے اور پھر اعمال صالحہ کا۔اور ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهرُ کہا ہے یعنی ایمان کی جزا جنت اور اس جنت کو ہمیشہ سرسبز رکھنے کے لئے چونکہ نہروں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ نہر میں اعمالِ صالحہ کا نتیجہ