تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 103

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۰۳ سورة البقرة خبری دے کہ وہ اس بہشت کے وارث ہیں جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں میں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کو مل چکے تھے پائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو ہمیں پہلے ہی دیئے گئے تھے کیونکہ وہ ان پھلوں کو اُن پہلے پھلوں سے مشابہ پائیں گے۔اب یہ گمان کہ پہلے پھلوں سے مراد دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں بالکل غلطی ہے اور آیت کے بدیہی معنے اور اس کے منطوق کے بالکل بر خلاف ہے۔بلکہ اللہ جل شانہ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا ہے جس کے درخت ایمان اور جس کی نہریں اعمال صالحہ ہیں۔اسی بہشت کا وہ آئندہ بھی پھل کھائیں گے اور وہ پھل زیادہ نمایاں اور شیر میں ہوگا اور چونکہ وہ روحانی طور پر اسی پھل کو دنیا میں کھا چکے ہوں گے اس لئے دوسری دنیا میں اس پھل کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں کہ جو پہلے ہمارے کھانے میں آچکے ہیں اور اس پھل کو اس پہلی خوراک سے مشابہ پائیں گے۔سو یہ آیت صریح بتا رہی ہے کہ جو لوگ دنیا میں خدا کی محبت اور پیار کی غذا کھاتے تھے۔اب جسمانی شکل پر وہی غذا ان کو ملے گی اور چونکہ وہ پریت اور محبت کا مزہ چکھ چکے تھے اور اس کیفیت سے آگاہ تھے۔اس لئے ان کی روح کو وہ زمانہ یاد آ جائے گا کہ جب وہ گوشوں اور خلوتوں میں اور رات کے اندھیروں میں محبت کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی کو یاد کرتے اور اس یاد سے لذت اٹھاتے تھے۔غرض اس جگہ جسمانی غذاؤں کا کچھ ذکر نہیں اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ جبکہ روحانی طور پر عارفوں کو یہ غذا دنیا میں مل چکی تھی تو پھر یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی نعمتیں ہیں کہ نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں نہ سنیں اور نہ کسی کے دل میں گزریں اور اس صورت میں ان دونوں آئینوں میں تناقض پایا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تناقض اس صورت میں ہوتا کہ جب اس آیت میں دنیا کی نعمتیں مراد ہو تیں لیکن جب اس جگہ دنیا کی نعمتیں مراد نہیں ہیں جو کچھ عارف کو معرفت کے رنگ میں ملتا ہے وہ درحقیقت دوسرے جہان کی نعمت ہوتی ہے جس کا نمونہ شوق دلانے کے لئے پہلے ہی دیا جاتا ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ با خدا آدمی دنیا میں سے نہیں ہوتا اسی لئے تو دنیا اس سے بغض رکھتی ہے بلکہ وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے آسمانی نعمت اس کو ملتی ہے۔دنیا کا آدمی دنیا کی نعمتیں پاتا ہے اور آسمان کا آسمانی نعمتیں حاصل کرتا ہے۔سو یہ بالکل سچ ہے کہ وہ نعمتیں دنیا کے کانوں اور دنیا کے دلوں اور دنیا کی آنکھوں سے چھپائی گئیں لیکن جس کی دنیوی زندگی پر موت آجائے اور وہ پیالہ روحانی طور پر اس کو پلایا جائے جو آگے جسمانی