تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 102

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة البقرة ذریعہ سے اپنی نئی قدرت دکھائے گا۔چونکہ وہ قدرت کامل ہے۔پس اگر ہم تمقلات کا نام بھی نہ لیں اور یہ کہیں کہ وہ خدا کی قدرت سے ایک نئی پیدائش ہے تو یہ تقریر بہت درست اور واقعی اور صحیح ہے۔خدا فرما تا ہے : فَلَا تَعلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفَى لَهُمْ مِنْ قُرَةٍ أَعْيُنٍ (السجدة : ۱۸) یعنی کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لئے مخفی ہیں۔سوخدا نے ان تمام نعمتوں کو مخفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم پرمخفی نہیں ہیں اور دودھ اور انار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں۔اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا، اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔اس آیت کی شرح میں جو ابھی میں نے ذکر کی ہے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہشت اور اس کی نعمتیں وہ چیزیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گزریں۔حالانکہ ہم دنیا کی نعمتوں کو آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں اور کانوں سے بھی سنتے ہیں اور دل میں بھی وہ نعمتیں گزرتی ہیں۔پس جبکہ خدا اور رسول اس کا ، ان چیزوں کو ایک نرالی چیز میں بتلاتا ہے تو ہم قرآن سے دور جا پڑتے ہیں اگر یہ گمان کریں کہ بہشت میں بھی دنیا کا ہی دودھ ہو گا جو گائیوں اور بھینسوں سے دوبا جاتا ہے۔گو یا دودھ دینے والے جانوروں کے وہاں ریوڑ کے ریوڑ موجود ہوں گے اور درختوں پر شہد کی مکھیوں نے بہت سے چھتے لگائے ہوئے ہوں گے اور فرشتے تلاش کر کے وہ شہد نکالیں گے اور نہروں میں ڈالیں گے۔کیا ایسے خیالات اس تعلیم سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں جس میں یہ آیتیں موجود ہیں کہ دنیا نے ان چیزوں کو کبھی نہیں دیکھا اور وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت بڑھاتی ہیں اور روحانی غذائیں ہیں۔گو ان غذاؤں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر ساتھ ساتھ بتایا گیا ہے کہ ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔کوئی یہ گمان نہ کرے کہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے یہ پایا جاتا ہے کہ جو جو نعمتیں بہشت میں دی جائیں گی ان نعمتوں کو دیکھ کر بہشتی لوگ ان کو شناخت کر لیں گے کہ یہی نعمتیں ہمیں پہلے بھی ملی تھیں۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الظَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ متشابها یعنی جو لوگ ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں جن میں ذرہ فساد نہیں ان کو خوش :