تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة البقرة خِلَافَ ذَلِكَ مِنْ أَسْلَافِ النَّصَارَى أَوِ اس کے برخلاف کوئی ایسا قول بھی نہیں پاتے جو اس وقت الْمُشْرِكِينَ، وَكَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ فِي تَنْقِيدِ کے نصاریٰ اور مشرکوں کے منہ سے قرآن کی شان کے الْكَلِمَاتِ يَا مَعْشَرَ الْجَاهِلِينَ وَأَمَّا مَا برخلاف نکلا ہو اور اے نادانو ! وہ نصاری قرآن کی پرکھ ظَنَنْتَ أَنَّ فِي الْقُرْآنِ بَعْضَ أَلْفَاظٍ غَيْرَ میں تم سے بہتر تھے۔ اور یہ جو تم نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض الفاظ ایسے ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں۔ لِسَانِ قُرَيْشٍ فَقَدْ قُلْتَ هَذَا اللَّفْظَ مِنْ جَهْلٍ وَ سو یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے طَيْشٍ، وَمَا كُنْتَ مِنَ الْمُتَبَصِرِينَ اعْلَمْ ہے اور بصیرت کی راہ سے نہیں۔ اے نبی اور سفلہ أَيُّهَا الْغَبِيُّ وَالْجَهُوْلُ اللَّنِي أَنَّ مَدَارَ نادان ! تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ پر ہوا الْفَصَاحَةِ عَلَى أَلْفَاظٍ مَقْبُولَةٍ سَوَاءٌ كَانَتْ کرتا ہے خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں مِنْ لِسَانِ الْقَوْمِ أَوْ مِنْ كَلِمٍ مَنْقُولَةٍ یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال میں آ مُسْتَعْمَلَةٍ فِي بُلَغَاءِ الْقَوْمِ غَيْرِ مَجْهُولَةٍ گئے ہوں اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں وَسَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ لُغَةِ قَوْمٍ وَاحِدٍ وَمِنْ اور ان کے دائمی محاورات میں سے ہوں یا ایسے الفاظ مُحَاوَرَاتِهِمْ عَلَى الدَّوَامِ ، أَوْ خَالَطَهَا أَلْفَاظ اُن میں مل گئے ہوں جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم اسْتَحْلَاهَا بُلَغَاءُ الْقَوْمِ، وَ اسْتَعْمَلُوهَا فِي ہوئے اور انہوں نے ان کے استعمال اپنی نظم اور نثر النَّظْمِ وَالنَّثْرِ مِنْ غَيْرِ مَخَافَةِ اللَّوْمِ، میں جائز رکھے ہوں اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں مُخْتَارِينَ غَيْرَ مُضْطَرِيْنَ فَلَمَّا كَانَ مَدَارُ اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے ہوں ۔ پس الْبَلَاغَةِ عَلَى هُذِهِ الْقَاعِدَةِ فَهُذَا هُوَ مِعْيَارُ جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا پس یہی قاعدہ ان الْكَلِمَاتِ الصَّاعِدَةِ فِي سَمَاءِ الْبَلاغَةِ عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان الرَّاعِدَةِ، فَلَا حَرَجٌ أَنْ يَكُونَ لَفظ مِنْ غَيْرِ پر چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں۔ پس اس اللِّسَانِ مَقْبُولًا فِي أَهْلِ الْبَيَانِ، بَلْ رُبَّما بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر يَزِيدُ الْبَلَاغَةُ مِنْ هَذَا النَّهْجِ فِي بَعْضِ بلغاء نے اس کو قبول کر لیا ہو بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات الْأَوْقَاتِ، بَلْ يَسْتَمْلِحُونَهُ فِي بَعْضِ بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے الْمَقَامَاتِ، وَيَتَلَذَّذُونَ بِهِ أَهْلُ الْأَفَانِينَ بلکہ بعض مقامات میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملیح اور