تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 88

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۸۸ سورة البقرة کی بے نظیری سے انکار کر کے اپنے وید کی نسبت فصاحت بلاغت کا دعوی کرتے ہیں۔لیکن ہم اس امر کو بار بار غافل لوگوں پر ظاہر کرنا فرض سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف کی بے نظیری سے صرف وہ شخص انکار کر سکتا ہے جس کو یہ طاقت ہو کہ جو کچھ قرآن شریف کی وجوہ بے نظیری اس کتاب میں بطور نمونہ درج کی گئی ہیں۔کسی دوسری کتاب سے نکال کر دکھلا سکے۔سو اگر آریا سماج والوں کو اپنے وید پر یہ امید ہے کہ وہ قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے گا تو انہیں بھی اختیار ہے کہ وید کا زور دکھلا وہیں۔مگر صرف دعوی ہی دعویٰ کرنا اور او باشانہ باتیں مونہہ پر لانا نیک طینت آدمیوں کا کام نہیں۔انسان کی ساری شرافت اور عقل اس میں ہے کہ اگر اپنے دعوئی پر کوئی دلیل ہو تو پیش کرے ورنہ ایسا دعویٰ کرنے سے ہی زبان بند رکھے جس کا ماحصل بجر فضول گوئی و ژاثر خائی اور کچھ بھی نہیں۔سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف کی بلاغت ایک پاک اور مقدس بلاغت ہے۔جس کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ حکمت اور راستی کی روشنی کو فصیح کلام میں بیان کر کے تمام حقائق اور دقائق علم دین ایک موجز اور مدلل عبارت میں بھر دیئے جائیں۔اور جہاں تفصیل کی اشد ضرورت ہو وہاں تفصیل ہو اور جہاں اجمال کافی ہو وہاں اجمال ہو اور کوئی صداقت دینی ایسی نہ ہو جس کا مفصلاً یا مجملاً ذکر نہ کیا جائے اور باوصف اس کے ضرورت حلقہ کے تقاضا سے ذکر ہو نہ غیر ضروری طور پر اور پھر کلام بھی ایسا فصیح اور سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہر گز کسی کے لئے ممکن نہ ہو اور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو، یہی قرآن شریف کا دعوی ہے جس کو اس نے آپ ثابت کر دیا ہے۔اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی نظیر بنا سکے۔اب جو شخص منصفانہ طور پر بحث کرنا چاہتا ہے۔اس پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایسی کتاب کا پیش کرنا ضروری ہے جس میں وہی خوبیاں پائی جائیں جو اس میں پائی جاتی ہیں۔۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۷۳ تا ۴۷۷ حاشیه در حاشیه ۳) جس قدر میں نے اب تک لطائف ومعارف و خواص سورۃ فاتحہ لکھے ہیں وہ بدیہی طور پر بے مثل و مانند ہیں مثلاً جو شخص ذرا منصف بن کر اوّل اُن صداقتوں کے اعلیٰ مرتبہ پر غور کرے جو کہ سورۃ فاتحہ میں جمع ہیں اور پھر ان لطائف اور نکات پر نظر ڈالے جن پر سورہ ممدوحہ مشتمل ہے اور پھر حسن بیان اور ایجاز کلام کو مشاہدہ اور کرے کہ کیسے معانی کثیرہ کو الفاظ قلیلہ میں بھرا ہوا ہے اور پھر عبارت کو دیکھئے کہ کیسی آب و تاب رکھتی ہے اور کس قدر روانگی اور صفائی اور ملائمت اس میں پائی جاتی ہے کہ گویا ایک نہایت مصفی اور شفاف پانی ہے