تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 87

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة البقرة ہیں جو کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔پھر میں مکرر کہتا ہوں کہ قبل اس کے جو تم لوگ اس فکر میں پڑو کہ قرآن شریف کے مثل و مانند کوئی دوسرا کلام تلاش کیا جائے۔اول تم کو اس بات کا دیکھ لینا نہایت ضروری ہے کہ اس دوسری کلام نے وہ دعویٰ بھی کیا ہے یا نہیں جس دعویٰ کو آیات مذکورہ بالا میں ابھی تم سن چکے ہو۔کیونکہ اگر کسی متکلم نے ایسا دعویٰ ہی نہیں کیا کہ میرا کلام بے مثل و مانند ہے جس کے مقابلہ اور معارضہ سے فی الحقیقت تمام جن و انس عاجز و ساکت ہیں تو ایسے متکلم کے کلام کو خواہ نخواہ بے مثل و مانند سمجھ لینا حقیقت میں اسی مثل مشہور کا مصداق ہے کہ مدعی ست و گواہ چست۔ماسوا اس کے کسی کلام کو قرآن شریف کی نظیر اور شبیہ ٹھہرانے میں اس بات کا ثبوت بھی پیدا کر لینا چاہئے کہ جن کمالات ظاہری و باطنی پر قرآن شریف مشتمل ہے انہیں کمالات پر وہ کلام بھی اشتمال رکھتا ہے جس کو بطور نظیر پیش کیا گیا ہے۔کیونکہ اگر نظیر پیش کردہ کو کے کمالات قرآنیہ سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں تو پھر ایسی نظیر پیش کرنا بجز اپنی جہالت اور حماقت دکھلانے کے کس غرض پر مبنی ہو گا ؟ یہ بات خوب یا درکھو کہ جیسے ان تمام چیزوں کی نظیر اور شبیہ بنانا کہ جو صادر من اللہ ہیں غیر ممکن اور ممتنع ہے۔ایسا ہی قرآن شریف کی نظیر بنانا بھی حد امکان سے خارج ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عرب کے نامی شاعروں کو کہ جن کی عربی مادری زبان تھی اور جو طبعی طور پر اور نیز کسی طور پر مذاق کلام سے خوب واقف تھے ماننا پڑا کہ قرآن شریف انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔اور کچھ عرب پر موقوف نہیں بلکہ خود تم میں سے کئی اندھے تھے کہ جو اس کامل روشنی سے بینا ہو گئے اور کئی بہرے تھے کہ اس سے سنے لگ گئے اور اب بھی وہ روشنی چاروں طرف سے تاریکی کو اٹھاتی جاتی ہے اور قرآن شریف کے انوار حقہ دلوں کو منور کرتے جاتے ہیں۔واقعی یہ حال ہو رہا ہے کہ جس قدر لوگوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں اسی قدر قرآن شریف کی عظمت کے قائل ہوتے جاتے ہیں۔چنانچہ بڑے بڑے متعصب انگریزوں میں سے جو کہ حکیم اور فلاسفر کہلاتے تھے خود بول اٹھے کہ قرآن شریف اپنی فصاحت اور بلاغت میں بے نظیر ہے یہاں تتک که گادفری بیکنس صاحب جیسے سرگرم عیسائی کو اپنی کتاب کی دفعہ ۲۲۱ میں لکھنا پڑا کہ حقیقت میں جیسی عالی عبارتیں قرآن میں پائی جاتی ہیں، اس سے زیادہ غالباً دنیا بھر میں نہیں مل سکتیں اور ایسا ہی یوٹ صاحب کو بیجوری اپنی کتاب میں یہی گواہی دینی پڑی۔آریا سماج والے جو خدا کے الہام اور کلام کو وید پر ختم کئے بیٹھے ہیں وہ بھی عیسائیوں کی طرح قرآن شریف * * سہو کتابت ہے۔صحیح گاڈ فری ہیگنس (GODFREY HIGGINS) ہے۔ناشر سہو کتابت ہے۔صحیح پورٹ ( جان ڈیون پورٹ ) (JOHN DAVENPORT) ہے۔ناشر