تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 86
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ سورة البقرة انہیں چیزوں کو خدا کا شریک مت ٹھہراؤ جو تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔ براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه در حاشیه (۳) یعنی اے لوگو! تم اُس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اُسی کو اپنے کاموں کا کار ساز سمجھو اور اس پر توکل رکھو۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۰) جب انتہا درجہ تک کسی کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے تو وہ معبود ہو جاتا ہے اور یہ صرف خدا تعالیٰ ہی کا وجود ہے جس کا کوئی بدل نہیں ۔ کسی انسان یا اور مخلوق کے لئے ایسا نہیں کہہ سکتے ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۵ صفحه ۵) یعنی اے لوگو! اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا ۔۔۔۔۔ عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اُسی سے دل لگاؤ۔ پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں بیچ سمجھا جائے اور جو شخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کا فکر رہے تو وہ بھی ایک بت پرستی ہے۔ بت پرستی کے یہی تو معنے نہیں کہ ہندوؤں کی طرح بہت لے کر بیٹھ جائے اور اس کے آگے سجدہ کرے۔ حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۸ مورخه ۲۲ راگست ۱۹۰۸ ء صفحه ۱) وَ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا (۲۵) فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ اور اگر تم اس کلام کے بارے میں کہ جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کسی نوع کے شک میں ہو یعنی اگر تمہارے نزدیک اس نے وہ کلام آپ بنالیا ہے یا جنات سے سیکھا ہے یا جادو کی قسم ہے یا شعر ہے یا کسی اور قسم کا شک ہے تو تم بھی اگر سچے ہو تو بقدر ایک سورۃ اس کی مثل بنا کر دکھلاؤ اور اپنے دوسرے مددگاروں یا معبودوں سے مدد لے لو اور اگر نہ بنا سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ (براہین احمد یہ چہار حص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۴۴ حاشیہ نمبر ۱۱) اور اگر تم کو قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے۔ تو تم بھی کوئی ایک سورۃ اس کی مانند بنا کر دکھلاؤ اور اگر نہ بناؤ اور یاد رکھو کہ ہرگز نہیں بنا سکو گے۔ تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر