تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 72

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رحمان ۷۲ سورة الفاتحة پھر اللہ تعالیٰ کی صفت الرحمن بیان کی ہے اور اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی فطری خواہشوں کو اس کی دُعا یا التجا کے بغیر اور بدوں کسی عمل عامل کے عطا ( پورا) کرتا ہے۔مثلاً جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے قیام و بقاء کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔پیدا پیچھے ہوتا ہے لیکن ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے آجاتا ہے۔آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، پانی، ہوا وغیرہ یہ تمام اشیاء جو اس نے انسان کے لئے بنائی ہیں یہ اس کی صفت رحمانیت ہی کے تقاضے ہیں۔لیکن دوسرے مذہب والے یہ نہیں مانتے کہ وہ بلا مبادلہ بھی فضل کرسکتا ہے۔الحکم نمبر ۱۷ جلدے مؤرخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) الرحمٰن ( ے بغیر کسی عمل کے خود بخو د عطاء کرنے والا۔سناتن دھرم والے ان میں سے ہیں جو ایک رنگ میں مانتے ہیں کہ پر میٹر سے سب کچھ نکلا مگر ساتھ ہی کہتے ہیں کرموں کا نتیجہ ہوتا ہے۔مرد بنا ہے تو کرموں کی وجہ سے عورت بنی ہے تو کرموں کے سبب۔غرض گدھا، بندر، بلا جو کچھ ہوا کرموں سے۔پس یہ لوگ صفت رحمانیت کے منکر ہیں۔وہ خدا جس نے آدمیوں سے پہلے سورج وغیرہ پیدا کیا، سانس کے لئے ہوا پیدا کی ، نیز اس لئے کہ ایک دوسرے تک آواز پہنچے۔جب یہ سب کچھ قبل از وجود پیدا کیا ہے تو پھر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے کرموں کی وجہ سے کیا ہے۔یہ لوگ بھولے ہوئے اور کفر میں گرفتار ہیں۔سچی بات یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہے۔کئی نعمتیں ایسی ہیں جن میں اعمال کا دخل نہیں اور کئی ایسی جن میں اعمال کا دخل ہے جیسے عابد، زاہد بندگی کرتے ہیں اور اس کا اجر ملتا ہے۔البدر نمبر ا جلد۷ مؤرخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۵) رحمن کے معنے خدا کے کلام سے یہ ثابت ہوتے ہیں کہ جب وہ بغیر کسی عوض کے اور سوا کسی عمل کے رحمت کرتا اور اسباب مہیا کر دیتا ہے۔مثلاً دیکھو خدا نے جب یہ نظام بنا رکھا ہے۔سورج ہے، چاند ہے، اناج ہے، پانی ہے، ہوا ہے، ہمارے امراض کے دفعیہ کے لئے قسم قسم کی بوٹیاں ہیں۔اب کوئی بتلا سکتا ہے کہ یہ اس کے کس عمل کا اجر ہیں۔ہر ایک شخص جو عمیق فکر کرے۔اس پر خدا کا رحمان ہونا ثابت ہوتا ہے۔انسان کی زندگی و آسودگی کے لئے جو کچھ چاہئے تھا وہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے مہیا کیا۔جو کچھ آسمان میں ہے اور زمین میں اور پھر جو کچھ ہمارے وجود میں پایا جاتا ہے یہ سب اس کی رحمانیت کا نتیجہ ہیں۔کیونکہ جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے۔اس وقت جو کچھ اس کے انعام تھے وہ کسی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔تناسخ کا مسئلہ