تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 66
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ५५ سورة الفاتحة مُسْتَغْنِيَةً مِنْ نَصْرِ النَّاصِرِينَ کی مدد سے مستغنی رکھا اور اُسے ”مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ “ وَمَظْهَرًا لِحَقِيقَةِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ كَمَا کی حقیقت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔جیسا کہ آئندہ يَأْتِي تَفْسِيرُهُ بَعْدَ حِينٍ ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی تفسیر آ رہی ہے۔ وَمِنْ تَتِمَّةِ هَذَا الْكَلَامِ أَنَّ نَبِيَّنَا اس کلام کا تتمہ یہ ہے کہ چونکہ ہمارے نبی خیر البشر خَيْرَ الْأَنَامِ لَمَّا كَانَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء برگزیدوں کے برگزیدہ اور أَصْفَى الْأَصْفِيَاءِ وَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلى الله تعالیٰ کی جناب میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ - أَرَادَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تَجْمَعَ ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ ظلی طور پر آپ فِيْهِ صِفَتَيْهِ الْعَظِيمَتَيْنِ عَلَى الطَّرِيقَةِ میں اپنی یہ دونوں بڑی صفات جمع کر دے۔ پس آپ کو الظَّلِيَّةِ فَوَهَبَ لَهُ اسْمَ مُحَمَّدٍ وَ احْمَد محمد اور احمد کے نام عطا کئے تا یہ دونوں نام صفت رحمانیت لِيَكُونَا كَالظَّلَّيْنِ لِلرَّحْمَانِيَّةِ وَ الرَّحِيمِيَّةِ اور صفتِ رحیمیت کے لئے بمنزلہ ظلّ کے ہوں ۔اسی لئے وَلِذَالِكَ أَشَارَ فِي قَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اس نے اپنے قول إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ إِلى أَنَّ الْعَابِدُ الْكَامِلَ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ کامل عبادت گزار کو يُعْطَى لَهُ صِفَاتُ رَبِّ الْعَالَمِينَ بَعْدَ أَنْ ربّ العالمین کی صفات عطا کی جاتی ہیں جبکہ وہ فنافی اللہ يَكُونَ مِنَ الْعَابِدِينَ الْفَانِينَ وَ قَدْ عابدوں کے مقام تک پہنچ جائے۔ اور آپ کو معلوم ہے عَلِمْتَ أَنَّ كُلَّ كَمَالٍ مِّنْ كَمَالَاتِ کہ اخلاقِ الہیہ کا ہر کمال اللہ تعالیٰ کے رحمان و رحیم الْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ مُنْحَصِرُ فِي كَوْنِهِ ہونے پر منحصر ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں رَحْمَانًا وَ رَحِيمًا وَلِذَالِكَ خَصَّهُمَا الله صفات کو بسم اللہ کے ساتھ مخصوص کر دیا۔ اور آپ کو یہ بھی بِالْبَسْمَلَةِ وَعَلِمْتَ أَنَّ اسْمَ مُحَمَّدٍ وَ أَحْمَدَ معلوم ہو چکا ہے کہ محمد اور احمد نام " الرحمان، الرحیم" کے الہیہ میں مخفی قَدْ أُقِيمَا مَقَامَ الرَّحْمَنِ وَالرَّحِيمِ وَ مظہر ہیں اور ہر کمال جو ان دونوں صفات الہیہ أُوْدِعَهُمَا كُلُّ كَمَالٍ كَانَ تَخْفِيًّا فِي هَاتَيْنِ تھا وہ علیم و حکیم خدا کی طرف سے ) سے ( محمد اور احمد کے ) دونوں الصَّفَتَيْنِ مِنَ اللهِ الْعَلِيمِ الْحَكِيمِ فَلَا ناموں میں ودیعت کر دیا گیا ہے پس بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے شَكَ أَنَّ اللَّهَ جَعَلَ هَذَيْنِ الْإِسْمَيْنِ ظِلَّيْن ان دونوں ناموں ( محمد اور احمد ) کو اپنی دونوں صفات لِصِفَتَيْهِ وَمَظْهَرَيْنِ لِسِيرَتَيْهِ لِيُرِي کے ظلّ اور اپنی دونوں سیرتوں کے مظہر ٹھہرایا حَقِيقَة الرَّحْمَانِيَّةِ وَ الرَّحِيمِيَّةِ فِي مِراةِ ہے تاکہ رحمانیت اور رحیمیت کی کی حقیقت کو محمد بیت اور