تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ سورة الفاتحة الْغَرِيْبُ۔فَلِأَجْلِ ذَالِك سلمان اللہ کا تقاضا تھا کہ آپ کو یہ لگا نہ مقام عطا ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ مُحَمَّدًا وَأَحْمَدَ فَإِنَّهُ وَرِثَ نُور نے آپ کا نام محمد بھی رکھا اور احمد بھی تو آپ خدا تعالیٰ کے الْجَلالِ وَ الْجَمَالِ وَ بِهِ تَفَرَّدَ وَ إِنَّهُ جمالی نور اور جلالی ٹور کے وارث بنے اور اس شان میں آپ أُعْفِي شَأْنَ الْمَحْبُوبِینَ وَ جَنَانَ منفرد ہیں اور آپ کو محبوبیت کی شان اور محنتوں والا دل بھی عطا الْمُحِبْينَ كَمَا هُوَ مِنْ صِفَتَى رَب کیا گیا۔جیسا کہ محبوبیت اور محبیت رب العالمین کی صفات الْعَالَمِينَ۔فَهُوَ خَيْرُ الْمَحْمُودِینَ وَ میں سے ہیں۔پس آپ بہترین محمود اور بہترین حامد ہیں اور خَيْرُ الْحَامِدِينَ وَ أَشْرَكَهُ اللهُ في اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی ان دونوں صفات میں (ظلی طور صِفَتَيْهِ وَ أَعْطَاهُ حَظًّا كَثِیرًا فمن پر) شریک کیا ہے اور اپنی ان دونوں رحمتوں سے آپ کو مِّنْ رَّحْمَتَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ عَيْنَيْهِ وَ حِصّہ وافر عطا فرمایا ہے اور اپنے ان دونوں چشموں سے آپ خَلَقَهُ بِيَدَيْهِ فَصَارَ كَقَارُورَةٍ فِيهَا کو سیراب کیا ہے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے آپ کو پیدا کیا رَاحٌ أَوْ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاح ہے (یعنی دست جمال و جلال سے ) پس آپ اس شیشہ کی وَكَمِثْلِ صِفَتَيْهِ أَنزَلَ عَلَيْهِ طرح ہو گئے جس میں (محبت الہی کی ) شراب ہے یا اس طاق الْفُرْقَانَ وَ جَمَّعَ فِيْهِ الْجَلال و کی مانند جس میں ایک عظیم الشان چراغ ہے۔اور اللہ تعالیٰ الْجَمَالَ وَ رَكَّبَ الْبَيَانَ۔وَ جَعَلَهُ نے اپنی ان دونوں صفتوں کی طرح آپ پر قرآن کریم سُلَالَةَ التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ مِراةًاً نازل فرمایا اور اس میں جلال و جمال ہر دو کو جمع کیا اور اس يّرُؤْيَةِ وَجْهِهِ الْجَلِيلِ وَالْجَمِیلِ ثُمَّ کے بیان کو ان ہر دو صفات سے مرکب کیا اور اس میں أَعْطَى الْأُمَّةَ نَصِيبًا ممن كأس توریت اور انجیل ہر دو( کی تعلیم ) کا خلاصہ رکھ دیا۔اور اللہ هَذَا الْكَرِيمِ۔وَعَلَّمَهُمْ مِنْ أَنْفَاسِ تعالیٰ صاحب جلال و جمال کا چہرہ دیکھنے کے لئے قرآن کو هذَا الْمُتَعَلِّمِ مِنَ الْعَلِيمِ فَشرب آئینہ بنایا اور پھر اُمت کو بھی اس قرآن کریم کے پیالہ سے بَعْضُهُمْ مِنْ عَيْنٍ اسْمِ مُحَمَّدِ الَّتي حصہ عطا فرمایا۔اور خدائے علیم کے اس عظیم شاگرد الْفَجَرَتْ مِنْ صِفَةِ الرَّحْمَانِيَّةِ وَ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاس قدسیہ سے انہیں تعلیم بَعْضُهُمُ اغْتَرَفُوا مِنْ يَنْبُوعِ اسّیم دی۔پس ان میں سے بعض نے اسم محمد کے چشمہ سے پانی پیا أَحْمَدَ الَّذِي اشْتَمَلَ عَلَى الْحَقِيقَةِ | جو چشمه که صفت رحمانیت سے پھوٹا ہے اور بعض نے اسم احمد