تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 47
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة الفاتحة إِذَا أَصَابَهَا الْوَسْمِيُّ فِي إِيَّانِهِ وَسَكَّنَ طَرح أَرْضٌ مَّوْسُومَةٌ زمین کو اُس وقت کہتے ہیں جب قُلُوبَ الْكُفَّارِ بِجَرْيَانِهِ، وَ مِنْهُ مَوْسِمُ الْحَج اس پر موسم بہار کی پہلی بارش بروقت بر سے اور بہہ کر وَالسُّوقِ وَجَمِيعُ مَوَاسِمِ الْاجْتِمَاعِ لأَنهَا کسانوں کے دلوں کو تسکین دے۔ پھر اسی لفظ و سم سے مَعَالِمُ يُجْتَمَعُ إِلَيْهَا لِنَوْعِ غَرَضِ مِنَ مَوْسِم نکلا ہے جیسے مَوْسِمُ الْحَجِّ ہے اور مَوْسِمُ السُّوقِ الْأَنْوَاعِ وَمِنْهُ الْمِيسَمُ الَّذِي يُطْلَقُ اور دوسرے مَوَاسم ہیں۔ کیونکہ یہ ایسے مواقع ہیں جن عَلَى الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ وَيُسْتَعْمَلُ فِي نِسَاءِ میں کسی نہ کسی مقصد کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور ذَاتِ مَلَاحَةٍ فِي أَكْثَرِ الْأَحْوَالِ وَقَدْ مِيسَم کا لفظ بھی وسم سے ہی مشتق ہے جس کا اطلاق ثَبَتَ مِنْ تَتَبَّع كَلَامِ الْعَرَبِ حسن و جمال پر ہوتا ہے اور اکثر حالتوں میں خوبصورت وَدَوَاوِيُنِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَسْتَعْمِلُونَ عورتوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ عربی زبان اور هُذَا اللَّفْظَ كَثِيرًا إِلَّا فِي مَوَارِدِ الْخَيْرِ مِنْ عرب شعراء کے دیوانوں کی چھان بین کرنے سے یہ دُنْيَاهُمْ وَدِينِهِمْ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ اسْمَ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وہ اس لفظ کو زیادہ تر خیر کے مواقع الشَّيْءِ عِنْدَ الْعَامَّةِ مَا يُعْرَفُ بِهِ ذَالِك پر ہی استعمال کرتے تھے، خواہ وہ دنیا کی خیر ہو یا دین کی الشَّيْنُ وَأَمَّا عِنْدَ الْخَوَاصِ وَأَهْلِ اور آپ جانتے ہیں کہ عوام الناس کے نزدیک کسی چیز کا الْمَعْرِفَةِ فَالْاسْمُ لِأَصْلِ الْحَقِيقَةِ الْغَيْنُ اسم وہ ہوتا ہے جس سے وہ چیز پہچانی جاتی ہے لیکن ن خواص بَلْ لَاشَكَ أَنَّ الأَسْمَاءَ الْمَنْسُوبَةَ إِلَى اور اہلِ علم کے نزدیک اسم شے کی اصل حقیقت کے لئے بطور الْمُسَمَّيَاتِ مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ قَد ظل کے ہے بلکہ یہ امر یقینی ہے کہ اشیاء کے جو نام اللہ تعالیٰ نَزَلَتْ مِنْهَا مَنْزِلَةَ الصُّورِ النَّوْعِيَّةِ کی طرف سے ہیں یہ تمام نام ان چیزوں کے لئے ان کی وَصَارَتْ كُوكُنَاتٍ لِطُيُورِ الْمَعَانِي وَ نوعی صورتوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ نام معانی اور علومِ الْعُلُومِ الْحِكْمِيَّةِ وَكَذَالِكَ اسْمُ الله و حکمیہ کے پرندوں کے لئے بمنزلہ گھونسلوں کے ہیں۔ اور الرَّحْمَنِ وَ الرَّحِيمِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ اس بابرکت آیت میں اللہ ، رحمان اور رحیم ناموں کا یہی الْمُبَارَكَةِ فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا يَدُلُّ عَلی حال ہے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے خصائص اور خَصَائِصِهِ وَ هُوِيَّتِهِ الْمَكْتُومَةِ۔ اپنی مخفی ماہیت پر دلالت کرتا ہے۔ وَاللهُ اسْمٌ لِلذَّاتِ الْإِلَهِيَّةِ الْجَامِعَةِ اور اللہ اس ذات الہی کا نام ہے جو تمام کمالات کی جامع