تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 46
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة الفاتحة بلا توقف اس کتاب پر ایمان لایا۔پھر دوسرا افسوس یہ کہ اس نادان عیسائی کو اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ بلاغت حقیقی اس امر میں محدود نہیں کہ قلیل کو کثیر پر ہر جگہ اور ہر محل میں خواہ نخواہ مقدم رکھا جائے بلکہ اصل قاعدہ بلاغت کا یہ ہے کہ اپنے کلام کو واقعی صورت اور مناسب وقت کا آئینہ بنایا جاوے سو اس جگہ بھی رحمان کو رحیم پر مقدم کرنے میں کلام کو واقعی صورت اور ترتیب کا آئینہ بنایا گیا ہے چنانچہ اس ترتیب طبعی کا مفصل ذکر ابھی سورۃ فاتحہ کی آئندہ آیتوں میں آوے گا۔( براہین احمدیہ چہار ص۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۱۴ تا ۴۳۵ حاشیہ نمبر۱۱) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 66 وولگا اعْلَمُ وَهَبَ لكَ اللهُ عِلْم اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے اسماء کا علم عطا فرمائے اور اپنی رضاء أَسْمَائِهِ۔وَهَدَاكَ إِلى طُرُقِ مَرَضَاتِهِ اور خوشنودی کی راہوں اور طریقوں پر چلائے۔جان لیں کہ وَ سُبُلِ رِضَائِهِ۔أَنَّ الْإِمَ مُتَل اسم کا لفظ ( جو بِسْمِ اللہ میں آیا ہے ) وستم سے مشتق ہے من الوشم الذى هُوَ أَثر التي في اور وشم عربی زبان میں داغ دینے کے نشان کو کہتے ہیں۔اللَّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ يُقَالُ اتَّسَم چنانچہ لغت عرب میں اِتَّسَمَ الرَّجُلُ اُس وقت کہتے ہیں جب الرَّجُلُ إِذَا جَعَلَ لِنَفْسِهِ سِمَةً يُعْرَفُ کوئی شخص اپنے لئے کوئی ایسی علامت مقرر کر لے جس سے وہ يها ويُميّز بها عند العامة وَ مِنْهُ پہچانا جا سکے اور عوام الناس اُسے دوسرے اشخاص سے الگ سمجھ سمَتُ الْبَعِيرِ وَ وِسَامُهُ عِنْدَ أَھل سکیں اور اہل زبان کے نزدیک وستم کے لفظ سے ہی سمه اللّسَانِ وَهُوَ مَا وُسمَ بِهِ الْبَعِيرُ مِنَ الْبَعِيرِ اور وِسَامُ الْبَعِيم مشتق ہے۔جس کے معنے اونٹ پر داغ ضُرُوبِ الصُّورِ لِيُعِينَ لِلْعِرْفَانِ۔وَ دے کر کوئی شکل بنانے کے ہیں تا وہ شکل اُس کی شناخت میں مِنْهُ مَا يُقَالُ إِنِّي تَوَسَمْتُ فِيْهِ الْخَير ممہ ہو۔اور اس لفظ وسم سے اہلِ عرب کا یہ محاورہ ہے اتي وَمَا رَأَيْتُ الطَّيْرِ أَي تَفَرَّسْتُ فَمَا تَوَتَمْتُ فِيهِ الْخَيْرَ وَمَا رَأَيْتُ الطَّيْرِ یعنی میں نے اس کے رَأَيْتُ سِمَةَ شَرَ في مُحَيَّاهُ وَ لا اثر چہرے پر غور کیا اور اس پر کوئی شر کی علامت نہ دیکھی اور نہ ہی خُبْتٍ فِي مَحْيَاهُ وَ مِنْهُ الْوَسْمِيُّ الَّذِی میں نے اس کی زندگی میں بدی کا کوئی نشان پایا۔پھر اسی لفظ هُوَ أَوّلُ مَظرٍ مِنْ أَمْطَارِ الرّبيع۔وَسُم سے وسمی کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی موسم بہار کی پہلی لأَنَّه يَسِمُ الْأَرْضَ إِذا نزل بارش کے ہیں کیونکہ جب وہ برستی ہے تو زمین پر پانی بہنے کے كَالْيَتَابِيْعِ وَيُقَالُ أَرْضٌ مَوْسُوْمَةٌ | نشان بناتی ہے جیسے چشمے اپنے بہنے سے نشان بناتے ہیں۔اسی