تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 44
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة الفاتحة تاریکی دکھائی دیتی ہے اور جو اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے وہ اس کو بد بو تصور کرتے ہیں۔سواب جاننا چاہئے کہ جو اعتراض بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کی بلاغت پر مذکورہ بالا لوگوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ الرّحمٰنِ الرَّحِيمِ جو بِسْمِ اللہ میں واقع ہے یہ فصیح طرز پر نہیں۔اگر رحیم الرحمن ہوتا تو یہ فصیح اور صحیح طر تھی کیونکہ خدا کا نام رحمان باعتبار اس رحمت کے ہے کہ جو اکثر اور عام ہے اور رحیم کا لفظ بہ نسبت رحمان کے اس رحمت کے لئے آتا ہے کہ جو قلیل اور خاص ہے۔اور بلاغت کا کام یہ ہے کہ قلت سے کثرت کی طرف انتقال ہو نہ یہ کہ کثرت سے قلت کی طرف۔یہ اعتراض ہے کہ ان دونوں صاحبوں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس کلام پر کیا ہے جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہلِ زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے باوجو دسخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شان عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑ گئے اور اکثر ان میں سے کہ جو صحیح اور تبلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جانتے پہچاننے والے اور مذاق سخن سے عارف اور با انصاف تھے وہ طرز قرآنی کو طاقت انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجزہ عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے جن کی شہادتیں جابجا قرآن شریف میں درج ہیں اور جو لوگ سخت کور باطن تھے اگر چہ وہ ایمان نہ لائے مگر سراسیمگی اور حیرانی کی حالت میں ان کو بھی کہنا پڑا کہ یہ سحر عظیم ہے جس کا مقابلہ نہیں ہوسکتا چنانچہ ان کا یہ بیان بھی فرقان مجید کے کئی مقام میں موجود ہے۔اب اسی کلام معجز نظام پر ایسے لوگ اعتراض کرنے لگے جن میں سے ایک تو وہ شخص ہے جس کو دو سطر میں عربی کی بھی صحیح اور بلیغ طور پر لکھنے کا ملکہ نہیں اور اگر کسی اہل زبان سے بات چیت کرنے کا اتفاق ہوا تو بجز ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط اور غلط فقروں کے کچھ بول نہ سکے اور اگر کسی کو شک ہو تو امتحان کر کے دیکھ لے اور دوسرا وہ شخص ہے جو علم عربی سے بکلی بے بہرہ بلکہ فارسی بھی اچھی طرح نہیں جانتا۔اور افسوس کہ عیسائی مقدم الذکر کو یہ بھی خبر نہیں کہ یورپ کے اہل علم کہ جو اس کے بزرگ اور پیشرو ہیں جن کا بورٹ صاحب وغیرہ انگریزوں نے ذکر کیا ہے وہ خود قرآن شریف کے اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے قائل ہیں اور پھر دانا کو زیادہ تر اس بات پر غور کرنی چاہئے کہ جب ایک کتاب جو خود ایک اہل زبان پر ہی نازل ہوئی ہے اور اس کی کمال بلاغت پر تمام اہلِ زبان بلکہ سبعہ معلقہ کے شعراء جیسے اتفاق کر چکے ہیں تو کیا ایسا مسلم الثبوت کلام کسی نادان اجنبی و ژولیدہ زبان والے کے انکار سے جو کہ لیاقت فن سخن سے محض بے نصیب اور توغل علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ بلکہ کسی ادنی عربی آدمی کے مقابلہ پر بولنے سے عاجز ہے قابل اعتراض ٹھہر سکتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرتے ہیں خود اپنی نادانی دکھلاتے ہیں اور یہ نہیں سہو کتابت ہے صحیح پورٹ ( جان ڈیون پورٹ JOHNDAVENPORT) ہے۔ناشر )