تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 33

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ) سورة الفاتحة اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ ترجمہ : خدا جس کا نام اللہ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔اور ہر ایک تعریف اُسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ ربّ العالمین ہے۔وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔ہم (اے صفات کاملہ والے ) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔اور ان راہوں سے بچا جو اُن لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیر ہ عذابوں سے دنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز اُن لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگر چہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا۔مگر اُخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔(ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۶) بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ آیت سورۃ ممدوحہ کی آیتوں میں سے پہلی آیت ہے اور قرآن شریف کی دوسری سورتوں پر بھی لکھی گئی ہے اور ایک اور جگہ بھی قرآن شریف میں یہ آیت آئی ہے اور جس قدر تکرار اس آیت کا قرآن شریف میں بکثرت پایا جاتا ہے اور کسی آیت میں اس قدر تکرار نہیں پایا جاتا۔اور چونکہ اسلام میں یہ سنت ٹھہر گئی ہے کہ ہر یک کام کے ابتدا میں جس میں خیر اور برکت مطلوب ہو بطریق تبرک اور استمداد اس آیت کو پڑھ لیتے ہیں اس لئے یہ آیت دشمنوں اور دوستوں اور چھوٹوں اور بڑوں میں شہرت پاگئی ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تمام قرآنی آیات سے بے خبر مطلق ہو۔تب بھی امید قوی ہے کہ اس آیت سے ہر گز اس کو بے خبری نہیں ہوگی۔اب یہ آیت جن کامل صداقتوں پر مشتمل ہے ان کو بھی سن لینا چاہئے سو منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اصل مطلب اس آیت کے نزول سے یہ ہے کہ تا عاجز اور بے خبر بندوں کو اس نکتہ معرفت کی تعلیم کی جائے کہ ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے کہ جو اصطلاح قرآنی ربانی کے رو سے ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور منزہ بن جمیع رذائل اور معبود برحق اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض پر بولا جاتا ہے۔اس اسم اعظم کی سورۃ فاتحہ