تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 29
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة الفاتحة وَالْإِفْتِنَانِ فَقَدَّدَ الله لَهُ الْخَيْبَةَ نے انبیاء کی بعثت کے ذریعہ اس کے لئے ناکامی اور تلخیاں وَالْقَوَارِعَ بِبَعْثِ الْأَنْبِيَاءِ وَمَا قَتَلَهُ مقدر کر رکھی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُسے ( شروع میں ) قتل تو بَلْ أَنْظُرَهُ إِلى يَوْمٍ تُبْعَثُ فِيهِ الْمَوْٹی نہیں کیا بلکہ اُسے اس وقت تک مہلت دے دی جب بإِذْنِ الله ذى الْعِزَّةِ وَالْعَلَاءِ۔وَبَشِّرَ مُردے خدا تعالی بزرگ و برتر کی اجازت سے دوبارہ زندہ بِقَتْلِهِ فى قَوْلِهِ الشَّيْطَانِ الرَّحِيْمِ کئے جائیں گے اور اس نے تعوذ میں الشیطان الرجیم فَتِلْكَ هِيَ الْكَلِمَةُ التي تُقرَأُ قَبْلَ کے الفاظ رکھ کر اس کے قتل کی خبر دی ہے۔پس یہی وہ کلمہ قَوْلِهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ہے جو بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سے قبل پڑھا جاتا ہے۔لفظ الرّجیم میں دجال کے قتل کا ذکر وَهَذَا الرَّجِيْمُ هُوَ الَّذِي وَرَدَ فِيهِ اور یہ رجیم وہی ہے جس کے حق میں ایک خاص وعید آئی الْوَعِيْدُ أَعْنِي الدَّجَالَ الَّذِي يَقْتُلُهُ ہے۔اس سے میری مراد وہ دجال ہے جسے مسیح موعود ( قاتل المَسِيحُ الميد۔وَ الرَّمُ الْقَتْلُ كَمَا (قال) ہلاک کرے گا اور رجیم کے معنے قتل کے ہیں۔جیسا طرح به في كُتُبِ اللَّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ کہ عربی زبان کی کتب لغت میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔فَالرَّحِيمُ هُوَ النَّاجِلُ الَّذِي يُغَالُ في پس رجیم وہی دجل کرنے والا ہے جو آئندہ زمانہ میں ہلاک زَمَانِ مِّنَ الْأَزْمِنَةِ الْأُتِيَةِ وَعُدُ مِّن کیا جائے گا۔یہ اس خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے بندوں کا اللهِ الَّذِي يَكُولُ عَلَى أَهْلِهِ وَلَا تَبْدِيلَ لحاظ رکھتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے الفاظ اٹل ہوتے ہیں۔پس لِلعَلِيمِ الْإِلَهِيَّةِ۔فَهَذِهِ بَشَارَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ خدائے رحیم کی طرف سے مسلمانوں کے لئے یہ بشارت من اللهِ الرَّحِيْمِ وَإِيْمَاهُ إِلَى أَنَّهُ ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت دجال کو يُقتل الدجال في وقتٍ كَمَا هُوَ ہلاک کیا جائے گا جیسا کہ لفظ رجیم سے واضح ہے۔المفهوم من لقط الرجيم۔اشعار رجم کے معنی وَ مَعْنَى الرَّجُمِ فِي هَذَا الْمُقَامِ (1) اس مقام میں رجم کے معنے جیسا کہ مجھے مخلوق کے كَمَا عُلِّمْتُ مِنْ رَّبِّ الْأَنَامِ رب کی طرف سے علم دیا گیا ہے۔هُوَ الْإِعْضَالُ إِغْضَالُ اللقامِ (۲) وہ کمینوں کو عاجز کرنا اور ایسے دشمنوں کو لا جواب وَإِسْحَاتُ الْعِدَا كَهْفِ الظُّلام ا کرنا ہے جو اندھیرے کی پناہ گاہ ہیں۔