تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 27
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة الفاتحة دعائے سورۃ فاتحہ میں تمام بنی نوع انسان کو شامل کرنا چاہیے اس سورہ میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں (۱) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے (۲) تمام مسلمانوں کو (۳) تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں ۔ پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشا خدا تعالیٰ کا ہے۔ - مکتوب حضرت مسیح موعود بنام شیخ غلام نبی صاحب مندرجه الحکم نمبر ۲۰ ۲۱ جلد ۴۰ مؤرخه ۲۸ جولائی ۔۷ را گست ۱۹۳۷ صفحہ (۳) دعا میں سورت فاتحہ کے تکرار کا اثر نماز میں سورۃ فاتحہ کی دُعا کا تکرار نہایت مؤثر چیز ہے کیسی ہی بے ذوقی و بے مزگی ہو۔ اس عمل کو برابر جاری رکھنا چاہئے یعنی کبھی تکرار آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا اور کبھی تکرار آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا اور سجدہ میں يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيْتُ - الحکم نمبر اجلد ۲ مؤرخه ۲۰ فروری ۱۸۹۸ء صفحه ۹) سورۃ فاتحہ کا ورد نماز میں بہتر ہے۔ بہتر ہے کہ نماز تہجد میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا بدلی توجه و خضوع و خشوع تکرار کریں اور اپنے دل کو نزول انوار الہیہ کے لئے پیش کریں اور کبھی تکرار آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا کیا کریں ۔ ان دونوں آیتوں کا تکرار انشاء اللہ القدیر تنویر قلب و تزکیہ نفس کا موجب ہوگا۔ الحکم نمبر ۲۳ جلد ۷ مؤرخہ ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ آيَاتِ هَذِهِ السُّورَةِ الْفَاتِحَةِ) واضح رہے کہ اس سورت (فاتحہ) کی آیات سات سَبْعٌ وَالنُّجُومُ سَبْعٌ فَقَدْ حَاذَا كُلُّ وَاحِدٍ ہیں اور مشہور ستارے بھی سات ہیں۔ ان آیات میں سے مِنْهَا نَجْمًا لِيَكُونَ كُلُّهَا لِلشَّيْطَنِ رَجْمًا ہر آیت ایک ستارے کے مقابل پر ہے تاوہ سب کی سب (رجسٹر محاورات العرب تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام) شیطان کے لئے رجم کا موجب ہوں۔ ( ترجمہ از مرتب ) قرآن شریف میں چار سورتیں ہیں جو بہت پڑھی جاتی ہیں۔ اُن میں مسیح موعود اور اس کی جماعت کا ذکر ہے۔ (۱) سورۃ فاتحہ جو ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اس میں ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔ جیسا کہ اس تفسیر میں ثابت کیا جائے گا۔ (۲) سورہ جمعہ جس میں آخَرِينَ مِنْهُم مسیح موعود کی جماعت کے متعلق ہے یہ ہر جمعہ میں پڑھی جاتی ہے۔ (۳) سورہ کہف جس کے پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے۔ اس کی پہلی اور پچھلی دس ۱۰ آیتوں میں دجال کا ذکر ہے ۔ (۴) آخری سورت قرآن کی جس میں دجال کا نام خناس رکھا گیا ہے۔ یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی توریت میں دجال کے واسطے آیا ہے۔ یعنی نحاش wn۔ ایسا ہی قرآن شریف کے اور مقامات میں بھی بہت ذکر ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱)