تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 25
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة الفاتحة سورۃ فاتحہ ایک حصن حصین ہے إِنَّ الْفَاتِحَةَ حِصْنَ حَصِينَ وَنُورٌ مُّبِينٌ | سورۃ فاتحہ ایک محفوظ قلعہ ، نورمبین اور استاد و مددگار وَمُعَلِّمُ وَمُعِينَ وَ إِنَّهَا يُحْصِنُ * أَحْكَامَ ہے اور یہ احکام قرآنیہ کو بڑے اہتمام سے کمی بیشی سے الْقُرْآنِ مِنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ محفوظ رکھتی ہے جس طرح سرحدوں کی حفاظت کی جاتی كَتَحْصِيْنِ النُّغُورِ بِإِمْرَارِ الْأُمُورِ وَمَثَلُهَا ہے اور اس کی مثال اس اونٹنی کی ہے جس کی پیٹھ پر تیری كَمَثَلِ نَاقَةٍ تَحْمِلُ كُلَّ مَا تَحْتَاجُ إِلَيْهِ ضرورت کی ہر چیز لدی ہوئی ہو اور وہ اپنے سوار کو وَتُوْصِلُ إِلَى دِيَارِ الْحِبِ مَنْ رَّكِبَ عَلَيْهِ دیار محبوب تک پہنچادے۔ نیز اس پر ہر قسم کا زاد راہ ، نفقہ وَقَدْ حُمِلَ عَلَيْهَا مِنْ كُلِّ نَوْعِ الْأَزْوَادِ وَ اور لباس و پوشاک لدی ہوئی ہو۔ یا پھر اس کی مثال اس النَّفَقَاتِ وَ الشَّيَابِ وَ الْكِسَوَاتِ أَوْ چھوٹے سے حوض کی ہے جس میں بہت سا پانی ہو گویا کہ مَثَلُهَا كَمَثَلِ بِرْكَةٍ صَغِيرٍ فِيهَا مَاء وہ متعدد دریاؤں کا منبع ہے، یا وہ ایک عظیم دریا کی گذرگاہ غَزِيرٌ كَأَنَّهَا مَجْمَعُ بِحَارٍ أَوْ هَجْرَی قَلَهُذَمٍ ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس سورہ کریمہ کے فوائد اور زَخَارٍ وَإِنِّي أَرَى أَنَّ فَوَائِدَ هَذِهِ السُّورَةِ خوبیاں ان گنت ہیں اور ان کا شمار انسانی طاقت میں الْكَرِيمَةِ وَنَفَائِسَهَا لَا تُعَدُّ وَ لَا تُخصی نہیں خواہ کوئی اس خواہش کی تکمیل میں اپنی عمر گزار وَلَيْسَ فِي وُسْعِ الْإِنْسَانِ أَنْ تُحْصِيْهَا وَإِنْ دے ۔ گمراہ اور بد بخت لوگوں نے اپنی جہالت اور کند ذہنی أَنْفَدَ عُمُرًا فِي هَذَا الْهَوَى وَإِنَّ أَهْلَ الْغَيِّ کی بناء پر اس کی صحیح قدر نہیں کی۔ انھوں نے اسے پڑھا تو والشَّقَاوَةِ مَا قَدَرُوهَا حَقَّ قَدْرِهَا مِن سہی لیکن با وجود باربار پڑھنے کے وہ اس کی خوبی اور الْجَهْلِ وَالْغَبَاوَةِ وَقَرَأُوهَا فَمَا رَأَوْا خوبصورتی کو نہ پاسکے۔ یہ سورت منکروں پر شدت سے طَلَاوَتَهَا مَعَ تَكْرَارِ التَّلَاوَةِ وَإِنَّهَا سُورَةٌ حملہ کرنے والی اور صحت مند دلوں پر سرعت سے اثر قَوِيٌّ الصَّوْلِ عَلَى الْكَفَرَةِ سَرِيعُ الْأَثْرِ کرنے والی ہے۔ ہر وہ شخص جس نے اس پر ایک پر کھنے عَلَى الْأَفْئِدَةِ السَّلِيمَةِ وَمَنْ تَأَمَّلَهَا تَأْمل والے کی طرح نظر ڈالی اور چمکتے ہوئے چراغ کی مانند الْمُنْتَقِدِ وَدَانَاهَا بِفِكْرٍ مُّنِيرٍ كَالْمِصْبَاحِ روشن فکر کے ساتھ اس کے قریب ہوا اس نے اس کو الْمُتَّقِدِ أَلْفَاهَا نُورَ الْأَبْصَارِ وَمِفْتَاحَ آنکھوں کا نور اور اسرار کی کلید پایا۔ بلاشک و شبہ یہی الْأَسْرَارِ وَإِنَّهُ الْحَقُّ بِلا رَيْبِ وَلَا رَجُم بات حق ہے اور نہ یہ کوئی ظنی بات ہے۔ اگر تمہیں کوئی ( سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ درست " تحصن" ہے (ناشر)