تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 23
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة الفاتحة فَمَن فَتَحَ بَابَ قَلْبِهِ لِقَبُولِ نُورِهَا | جب کوئی شخص اپنے دل کے دروازہ کو اس کا نور قبول کرنے فَيَدْخُلُ فِيهِ نُورُهَا وَ يَطَّلِعُ عَلی کے لئے کھول دیتا ہے تو اس کا نور اس میں داخل ہو جاتا ہے اور مَسْتُورِهَا وَ مَنْ غَلَّقَ الْبَابَ فَدَعَا وہ اس سورۃ کے پوشیدہ اسرار سے آگاہ ہو جاتا ہے اور جو شخص ظُلْمَتَهُ إِلَيْهِ بِفِعْلِهِ وَ رَأَى القباب و تحق اس دروازہ کو بند کرتا ہے وہ خود ہی اپنے فعل سے اپنی گمراہی کو دعوت دیتا ہے اور اپنی تباہی کا مشاہدہ کرتا ہے اور ہلاک بِالْهَالِكِينَ کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۴۶،۱۴۵) | ہونے والوں کے ساتھ جاملتا ہے۔( ترجمہ از مرتب ) سورۃ فاتحہ کا تنویر باطن میں دخل ایک خاصہ روحانی سورہ فاتحہ میں یہ ہے کہ دلی حضور سے اپنی نماز میں اس کو ورد کر لینا اور اس کی تعلیم کو فی الحقیقت سچ سمجھ کر اپنے دل میں قائم کر لینا تنویر باطن میں نہایت دخل رکھتا ہے۔یعنی اس سے انشراح خاطر ہوتا ہے اور بشریت کی ظلمت دور ہوتی ہے اور حضرت مبدء فیوض کے فیوض انسان پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور قبولیت الہی کے انوار اس پر احاطہ کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ ترقی کرتا کرتا مخاطبات الہیہ سے سرفراز ہو جاتا ہے اور کشوف صادقہ اور الہامات واضحہ سے تمتع تام حاصل کرتا ہے اور حضرت الوہیت کے مقربین میں دخل پالیتا ہے اور وہ وہ عجائبات القائے غیبی اور کلام لا ریبی اور استجابت ادعیہ اور کشف مغیبات اور تائید حضرت قاضی الحاجات اُس سے ظہور میں آتی ہیں کہ جس کی نظیر اس کے غیر میں نہیں پائی (براہین احمدیہ چہار تص۔روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۲۶ تا ۶۲۹ حاشیہ نمبر ۱۱) جاتی۔سورۃ فاتحہ مظہر انوارالہی ہے یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورہ فاتحہ مظہر انوار الہی ہے۔اس قدر عجائبات۔کہ اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدرومنزلت معلوم ہوتا ہے۔اس ہا سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کے تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صد با اخبار غیبیه قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رویا صادقہ یاد ہے کہ جواب تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں۔اور دوسو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی