تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 408
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۸ سورة الفاتحة طرف کھینچا جاتا ہے۔غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری ور امدادر بانی پر نظر پڑتی ہے اسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکدر ہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذات عظمی کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمت گل اور ہریک ہستی کا ستون اور ہر یک درد کا چارہ اور ہر یک فیض کا مبدء دکھائی دیتی ہے آخر اس سے ایک صورت فنافی اللہ کی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے نہ اپنے نفس کی طرف نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اُس ہستی حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کا لعدم معلوم ہوتی ہے اس حالت کا نام خدا نے صراط مستقیم رکھا ہے جس کی طلب کے لئے بندہ کو تعلیم فرمایا اور کہا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی وہ راستہ فنا اور توحید اور محبت الہی کا جو آیات مذکورہ بالا سے مفہوم ہو رہا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور اپنے غیر سے بکلی منقطع کر۔خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ نے دُعا میں جوش پیدا کرنے کے لئے وہ اسباب حقہ انسان کو عطا فرمائے کہ جو اس قدر دلی جوش پیدا کرتے ہیں کہ دعا کرنے والے کو خودی کے عالم سے بے خودی اور نیستی کے عالم میں پہنچا دیتے ہیں۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ بات ہر گز نہیں کہ سورۃ فاتحہ دعا کے کئی طریقوں میں سے ہدایت مانگنے کا ایک طریقہ ہے بلکہ جیسا کہ دلائل مذکورہ بالا سے ثابت ہو چکا ہے درحقیقت صرف یہی ایک طریقہ ہے جس پر جوش دل سے دعا کا صادر ہونا موقوف ہے اور جس پر طبیعت انسانی بمقتضا اپنے فطرتی تقاضا کے چلنا چاہتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا نے دوسرے امور میں قواعد مقررہ ٹھہرا ر کھے ہیں ایسا ہی دعا کے لئے بھی ایک قاعدہ خاص ہے اور وہ قاعدہ وہی محرک ہیں جو سورۃ فاتحہ میں لکھے گئے ہیں اور ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہو سکے۔سوطبعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذکر ہو چکا ہے۔پس سورہ ممدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو معہ محرکات اس کے کے بیان کیا ہے فتدبر۔پھر ایک دوسرا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کے لئے پورے پورے اسباب ترغیب بیان فرمائے ہیں کیونکہ ترغیب کامل جو معقول طور پر دی جائے ایک زبر دست کشش ہے اور حصر عقلی کے رو سے ترغیب کامل اس ترغیب کا نام ہے جس میں تین جو میں موجود ہوں۔ایک یہ کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس کی ذاتی خوبی بیان کی جائے سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔اخدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ہم کو وہ راستہ بتلا جو اپنی ذات میں صفت استقامت اور راستی سے موصوف ہے جس