تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 404

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۴ سورة الفاتحة وَيُحَزِكُ الْعِبَادَ إِلَى أَنْ يَنْتَجِعُوا حَضْرَته | دیتی ہے کہ وہ خلوص نیت اور صفائی قلب سے بارگاہ ایزدی بِإِلْحَاضِ النِّيَّةِ وَ إِخْلَاصِ الْجَنَانِ کی تلاش میں لگ جائیں۔نیز (یہ تمہید ) انہیں بتاتی ہے کہ وَيُظْهِرُ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ عَيْنُ كُلّ رَحْمَةٍ خدا تعالیٰ تمام رحمتوں کا سرچشمہ اور تمام نوازشوں کا منبع ہے وَيَنْبُوعُ جَمِيعِ أَنْوَاعِ الْحَنَانِ و مخصوص اور رب، رحمان، رحیم اور دیان ( جزا سزا کا مالک) کے باسم الرب وَالرَّحْمنِ وَالرَّحِيْمِ ناموں سے مخصوص ہے۔جن لوگوں کو ان صفات کا علم ہو جاتا وَالشَّيَانِ فَالَّذِينَ يَظْلِعُونَ عَلى هذهِ ہے وہ ان کے مالک (اللہ تعالیٰ ) سے جدا نہیں ہوتے خواہ وہ الصِّفَاتِ فَلَا يُزَايِلُونَ أَهْلَهَا وَلَوْ موت کے بیابانوں میں جاگریں بلکہ وہ اُس کی طرف سَقَطُوا فِي فَلَوَاتِ الْمَمَاتِ بَلْ يَسْعَوْنَ دوڑتے ہیں اور صدق قلب اور صحت نیت سے اُسی کے پاس إِلَيْهِ وَيُوَقِّنُونَ لَدَيْهِ بِصِدْقِ الْقَلْبِ ڈیرے جمالیتے ہیں۔اس کی طرف اپنے گھوڑے دوڑاتے وصحة النِّيَّاتِ وَيَتَرَا كَضُونَ إِلَيْهِ ہیں۔اُس کی طرف والہانہ بڑھتے ہیں۔اُن کے اندر خَيْلَهُمْ وَيَسْعَوْنَ كَالْمَشُوقِ وَيَضْطَرِمُ (اپنے) معشوق کی محبت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ایسا فِيْهِمْ هَوَى الْمَعْشُوقِ فَلَا يُنَاقِشُ شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کے غلبہ کی وجہ سے دوسری خواہشات أَهْوَاء أُخْرَى عِنْدَ غَلَبَةِ هُوَی رَبِّ سے کوئی کش مکش نہیں رکھتا۔پس ثابت ہوا کہ اس دعا کی تمہید الْعَالَمِينَ فَتَبَتَ أَن في تَمْهِيْدِ هذا میں عبادت کرنے والوں کے لئے ایک زبر دست تحریک الدُّعَاءِ تَحْرِيعا عَظِيمًا لِلْعَابِدِينَ۔۔۔۔۔۔ہے۔۔۔۔۔۔۔ثُمَّ بَعد ذلِكَ نَنظُرُ إلى دُعَاء عَلَّمَهُ پھر اس کے بعد ہم اُس دعا پر غور کرتے ہیں جو عِيسَى وَإلى دُعَاء عَلَّمَهُ رَبُّنَا الأعلى حضرت عیسی علیہ السلام نے سکھائی اور اس دعا پر بھی جو ہمارے لِيَتَبَيَّنَ مَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَهُمَا لِذي خدائے بزرگ و برتر نے سکھائی تا عقلمند پر واضح ہو جائے کہ الصَّالِحِينَ۔النُّهى وَلِيَنْتَفِعَ بِهِ مَنْ تکان مین ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے اور تا جو کوئی بھی نیک لوگوں میں شامل ہے اس فرق سے فائدہ اُٹھائے۔فَاعْلَمُ أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ پس جان لو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو دعا سکھلائی عَلَّمَ دُعَاءٌ يَتَزَرى عَلَيْهِ إِنْصَافُنَا أَغنى ہے یعنی یہ کہ " ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دیا کر ہمارا خُبْزَنَا كَفَافَنَا وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَعَافَ ذکر انصاف اسے ناقص قرار دیتا ہے۔اس کے برخلاف