تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 403

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ سورة الفاتحة ۔۔۔۔۔۔۔ لَهُ يُحَاصِل إلى هَذَا الْآنِ۔ فَمَا هَذَا الدُّعَاءُ | ابھی تک تقدّس حاصل نہیں ۔ پس یہ دُعا ایک قسم کا بے معنی إِلَّا مِنْ نَّوْعِ الْهِنْيَانِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ کلام ہے اور کچھ نہیں کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ قُدُّوسٌ مِنَ الْأَزَلِ إِلَى الْأَبَدِ كَمَا هُوَ جیسا کہ اُس کی شان احدیت و بے نیازی کے شایاں يَلِيقُ بِالْأَحَدِ الصَّمَدِ فَهُوَ مُنَزَّةٌ وَمُقَدَّس ہے وہ ازل سے ابد تک ہمیشہ قدوس ہے اور وہ تمام مِنْ كُلِّ التَّدَنسَاتِ في جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ عیوب سے ہمیشہ ہمیش کے لئے ابدالآباد تک منزہ اور إِلَى أَبَدِ الْأَبِدِينَ وَلَيْسَ مَحْرُوْمًا وَمِنَ مقدس ہے ۔ وہ نہ کسی خوبی سے محروم ہے اور نہ آئندہ کسی الْمُنْتَظِرِينَ بھلائی کے ملنے کا منتظر ہے ۔۔۔۔۔۔ ثُمَّ الْإِنْجِيلُ يَذْكُرُ الله تَعَالَى بِاسْمِ پھر انجیل خدا تعالیٰ کا ذکر آب نام سے کرتی اور قرآن الْأَبِ وَالْقُرْآنِ يَذْكُرُهُ بِاسْمِ الرَّب اس کا ذکر رب کے نام سے کرتا ہے اور ان دونوں (الفاظ ) وَبَيْنَهُمَا بَوْنَ بَعِيدٌ وَيَعْلَمُهُ مَنْ هُوَ زَکی میں بہت بڑا فرق ہے جسے ہر ذہین اور سعادت مند سمجھتا وَسَعِيدٌ وَإِن لَّمْ يَعْلَمُهُ مَنْ كَانَ مِنَ ہے اگر چہ نادان نہ سمجھیں کیونکہ آب ( باپ) کا لفظ اکثر الْجَاهِلِينَ فَإِنَّ لَفَظَ الْأَبِ لَفظُ قَدْ كَثُرَ مخلوقات کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور اُسے خدا تعالیٰ کے اسْتِعْمَالُهُ فِي الْمَخْلُوقِيْنَ فَتَقْلُهُ إِلَى لئے استعمال کرنا ایک ایسا فعل ہے جس میں شرک کی بُو پائی الرَّبِّ تَعَالَى فِعْلَ فِيهِ رَائِحَةُ مِن جاتی ہے جو انسان کو ہلاک کرنے کے زیادہ قریب ہے جیسا الْإِشْرَاكِ وَهُوَ أَقْرَبُ لِلْإِهْلَاكِ كَمَا لَا کہ تدبر کرنے والوں پر مخفی نہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) يَخْفَى عَلَى الْمُتَدَبِرِينَ (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۳۷ تا ۱۴۰) وَاعْلَمُوا أَيُّهَا النَّاظِرُونَ وَ الْعُلَمَاء اے دیکھنے والو اور اہل بصیرت علماء! جان لو کہ الْمُسْتَبْصِرُونَ أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا سے پہلے ایک تمہید سکھائی عَلَّمَ تَمْهِيدًا قَبْلَ الدُّعَاءِ وَالْقُرْآنُ عَلَّمَ ہے اور قرآن کریم نے ( بھی ) دعا سے قبل ایک تمہید سکھائی تَمْهِيدًا قَبْلَ الدُّعَاءِ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا ہے اور عقل مندوں کے نزدیک ان دونوں تمہیدوں میں ظَاهِرُ عَلى أَهْلِ النَّهَاءِ فَإِنَّ تَمْهِيد فرق ظاہر ہے کیونکہ قرآن کریم کی تمہید روح کو خدائے الْقُرْآنِ يُحَرِّكُ الرُّوحَ إِلى عِبَادَةِ الرَّحْمَنِ | رحمان کی عبادت کی تحریک کرتی ہے اور بندوں کو ترغیب