تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 402
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۲ سورة الفاتحة وَلَا تُعَدُّ كَمَالَاتُهُ وَ أَشَارَ فِي رَبِّ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس کی نہ صفات شمار کی جاسکتی ہیں الْعَالَمِينَ أَنَّ وَيْلَ رُبُوَبِيَّتِهِ يَعُمُّ اور نہ اس کے کمالات گنے جا سکتے ہیں۔رَبِّ الْعَالَمِينَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِينَ وَ الْجِسْمَانِتین میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بارش و الرُّوْحَانِيِّينَ وَ أَشَارَ فِي الرَّحْمنِ آسمانوں اور زمینوں پر بلکہ تمام جسمانی و روحانی چیزوں پر عام پر الرَّحِيمِ أَنَّ الرَّحْمَةَ بِجَمِيعِ أَنْوَاعِهَا مِن ہے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ ہر قسم کی الله الْقَيُّوْمِ الْقَدِيمِ وَالْخَلاقِ الْكَرِيمِ رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ( ملتی ) ہے جو قیوم وقدیم وَأَشَارَ فِي قَوْلِهِ يَوْمِ الدِّيْنِ أَنَّ مَالِكَ اور خلاق و کریم ہے اُس نے اپنے الفاظ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْمُجَازَاةِ هُوَ اللهُ لا غیره من میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ جزا و سزا کا مالک صرف اللہ تعالیٰ الْمَخْلُوقِينَ وَ أَنَّ أَبْحْرَ الْمُجَازَاتِ ہی ہے اس کے سوا مخلوق میں سے اور کوئی مالک نہیں۔اُس جَارِيَةٌ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ كُلّ چین کی جزا کے سمندر جاری ہیں اور وہ ہر وقت بادلوں کی طرح حِينٍ وَكُلُّ مَا يَرَى عَبْدٌ مِنْ فَضْلِ الله وَ (فیض پہنچانے کے لئے ) گزر رہے ہیں اور بندہ اعمال صالحہ، إحْسَانَاتِهِ بَعْدَ أَعْمَالٍ صَالِحَة وَ صِدْقِهِ صدق اور اپنی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس وَصَدَقَاتِه فَإِنَّمَا هُوَ صَنِيْعَهُ مُجازاته کے احسانات میں سے جو کچھ بھی پاتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی فَفِي هَذِهِ الْمَحَامِدِ إِشَارَاتٌ رَّفِيعَةٌ جزا ( دینے والی صفت) کا احسان ہوتا ہے۔(خدا کی ) ان عَالِيَةٌ ودَلَالَاتٌ لَطِيفَةٌ مُتَعَالِيَةٌ عَلى صفات حسنہ میں اس امر پر اعلیٰ وارفع اشارے اور لطیف اور كُلِ كَمَالٍ لِحَضْرَةِ اللهِ جَامِعِ كُلّ جَمال بلند پایہ دلائل ہیں کہ ہر کمال اللہ تعالیٰ کے لئے سزا وار وَجَلالٍ ثُمَّ مِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّ اللَّام في ہے جو ہر جلال و جمال کا جامع ہے۔پھر یہ تو ظاہر ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ لِلْإِسْتِغْرَاقِ فَهُوَ يُشِيرُ إِلى أَنَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ میں جو الف لام ہے وہ استغراق کے لئے ہے الْمَحَامِدَ كُلِّهَا لِله بالاستحقاق۔وَأَنا اور اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سب صفات حسنہ بطور دُعَاءُ الْإِنْجِيلِ أَغْنِي لِيَتَقَدَّس اسمك “ حق کے اللہ تعالیٰ کے لئے ہی (واجب) ہیں لیکن انجیل کی فَلَا يُشِيرُ إِلى كَمَالِ بَلْ يُخيرُ عَنْ یہ دعا کہ تیرا نام پاک ہو کسی کمال کی طرف اشارہ نہیں خَطَرَاتٍ زَوَالٍ وَيُظهِرُ الْأَمَانِع کرتی بلکہ زوال کا خدشہ پیدا کرتی اور اللہ تعالیٰ کے پاک لِتَقْدِيسِ الرَّحْمَنِ كَانَ التَّقَدُّسُ لَيْسَ ہونے کے لئے محض خواہشات کا اظہار کرتی ہے گویا اُسے 66