تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ سورة الفاتحة وَقَلْبَهُ مُظمينا بالإيمَانِ وَعَيْشَہ اس کا سینہ غیر اللہ کی محبت سے خالی ہے اس کا دل ایمان سے مُطْمَئِنَّا حُلُوا بِذِكْرِ الْمَنَانِ وَيَكُونُ مِن مطمئن ہے اور اس کی زندگی محسن خدا کی یاد کی وجہ سے نہایت الْمُسْتَبْرِينَ فَتَتَعَلى تِلْكَ خوشگوار بن گئی ہے۔پس وہ ہر لحاظ سے خوش و خرم ہو جاتا ہے پھر الصِّفَةُ لَهُ وَ تَسْتَوى عَلَيْهِ حَتَّی اس پر اس صفت کی مزید حجتی ہوتی ہے اور وہ اس پر چھا جاتی ہے يَكُونَ قَلب هذَا الْعَبْدِ عَرْشَ هذہ یہاں تک کہ ایسے بندہ کا دل اس صفت کا عرش بن جاتا ہے اور الصِّفَةِ وَ يَنصَبغَ الْقَلْبُ بِصِبْغِهَا نفسانیت کا رنگ بالکل دھل جانے اور بندہ کے فانی فی اللہ بَعْدَ ذَهَابِ الصَّبْغِ النَّفْسَانِيَّةِ ہونے کے بعد اس کا دل اس صفت کے رنگ میں خوب رنگین ہو وَبَعْدَ كَوْنِهِ مِنَ الْفَانِينَ جاتا ہے۔فَإِنْ قُلْتَ مِنْ أَيْنَ عَلِمتَ أَنَّ هذه اگر تم کہو کہ آپ کو کہاں سے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ میں یہ الْإِشَارَةَ تُوجَدُ فِي الْفَاتِحَةِ فَاعْلَمُ أَنَّ اشارہ موجود ہے؟ تو تم جان لو کہ اس اشارہ پر اَلْحَمدُ لِلہ کے الفاظ لفظ الْحَمْدُ لِلهِ يَدُلُّ عَلَيْهِ فَإِنَّ الله دلالت کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ( یہاں ) یہ نہیں کہا کہ تم تَعَالَى مَا قَالَ قُلْ الْحَمْدُ لِله بل کہو الْحَمْدُ لِلَّهِ بلکہ صرف الْحَمْدُ لِلهِ کہا گویا اس نے ہماری قَالَ الْحَمْدُ للهِ فَكَأَنَّهُ أَنْطق فطرتنا فطرت سے ( یہ فقرہ ) کہلوایا ہے اور جو چیز ہماری فطرت میں وَأَرَانَا مَا كَانَ مَخَفِيًّا في فطرتِنَا۔پوشیدہ ہے وہ اس نے دکھا دی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ وَهَذِهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الْإِنْسَانَ قَد خُلِقَ ہے کہ انسان فطرتِ اسلام پر پیدا کیا گیا ہے اور اس کی فطرت عَلى فِطْرَةِ الْإِسْلامِ وَأُدْخِلَ في فطريه میں یہ بات داخل کر دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور أَنْ أَحْمَدَ اللهَ وَيَسْتَيْقِنَ أَنَّهُ رَبُّ یقین رکھے کہ وورب العالمین ہے، رحمان ہے، رحیم ہے اور الْعَالَمِينَ وَ رَحْمَن وَرَحِيمُ وَمَالِكَ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے اور یہ کہ وہ مدد مانگنے والے کی مدد کرتا اور یہ وہ يَوْمِ الدِّينِ۔وَأَنَّهُ يُعِينُ الْمُسْتَعِینَ وَ ہے اور دعا کرنے والوں کو ہدایت دیتا ہے۔پس اس جگہ سے يَهْدِى الدَّاعِيْنَ۔فَقَبَتَ مِنْ هُنَا أَن ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی عبادت انسان کی الْعَبْد مَجبُول عَلى مَعْرِفَةِ رَبِّهِ وَ عِبَادَتِهِ فطرت میں ودیعت کی گئی ہے اور اس کے دل میں اس کی محبت وَقَدْ أُشرب في قَلْبِهِ مَحَبَّتُهُ فَتَظْهَرُ بھر دی گئی ہے پس یہ حالت پردوں کے اُٹھ جانے کے بعد ہی هذِهِ الْحَالَةُ بَعْدَ رَفع الحجب و تجرمنی ظاہر ہوتی ہے اور تب خدا تعالی کا ذکر زبان پر بے اختیار اور