تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 392

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ سورة الفاتحة اندر جس کو اکاش کہنا چاہئے سب مجازی دیوتاؤں سے بڑا ہے جس کی بغلوں میں سورج اور چاند پرورش پاتے ہیں یہ یہ نسبت اوروں کے ربوبیت عامہ کا دیوتا ہے بعد اس کے سورج دیوتا ہے جو رحمانیت کا مظہر ہے اس کی ربوبیت چاند سے زیادہ اور اکاش یعنی اندر دیوتا سے کم ہے۔وہ کام جو اس کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بغیر موجودگی عمل کے درختوں پر اپنی عنایت اور کر پا ظاہر کرتا ہے کیونکہ درخت ننگ دھڑنگ کھڑے ہوتے ہیں اور خزاں کے مارے ہوئے ایسے ہوتے ہیں کہ گویا مردے ہیں جو زمین میں گاڑے گئے ہیں اور تہی دست فقیروں کی طرح ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں۔پس سورج دیوتا بہار کے موسم میں موج میں آکر ان کو لباس بخشتا ہے اور ان کا دامن پھلوں اور پھولوں سے بھر دیتا ہے اور چند روز میں ان کے سر پر پھولوں کے سہرے باندھتا ہے اور سبز پتوں کی ریشمی قبا ان کو پہناتا ہے اور پھلوں کی دولت سے ان کو مال مال کر دیتا ہے اور اس طرح پر ایک شاندار نوشہ ان کو بنا دیتا ہے پس اس کی رحمانیت میں کیا شک رہا جو بغیر کسی سابق عمل کے ننگے درویشوں پر اس قدر کر پا اور مہربانی کرتا ہے۔اس قسم کے استعارات وید میں بہت موجود ہیں کہ اول شاعرانہ طور پر معلوم ہوتے ہیں اور پھر ذرا غور کریں تو کوئی علمی چمک بھی ان میں دکھائی دیتی ہے۔پھر سورج کے بعد وید کی رُو سے چاند دیوتا ہے کہ وہ کمزوروں کے عملوں کو دیکھ کر اپنی مدد سے ان کے اعمال انجام تک پہنچاتا ہے یعنی بہار کے موسم میں درخت پھل تو پیدا کر لیتے ہیں لیکن اگر چاند نہ ہوتا تو یہ عمل ان کا ناقص رہ جاتا اور پھلوں میں تازگی اور فربہی اور طراوت ہر گز نہ آتی۔پس چاند ان کے عمل کا متمم ہے اس لئے اس لائق ہوا کہ مجازی طور پر اس کو رحیم کہا جائے سووید اس کو رحیم قرار دیتا ہے سو استعارہ کے طور پر کچھ حرج نہیں۔پھر چاند کے بعد دھرتی دیوتا ہے جس نے مسافروں کو جگہ دینے کے لئے اپنی پشت کو بہت وسیع کر رکھا ہے ہر ایک پھل درخت پر مسافر کی طرح ہوتا ہے آخر کار مستقل سکونت اس کی زمین پر ہوتی ہے اور زمین اپنے مالکانہ اختیارات سے جہاں چاہے اس کو اپنی پشت پر جگہ دیتی ہے اور جیسا کہ خدا نے قرآن شریف میں فرمایا۔وَحَمَلْتَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( بنی اسرائیل : 1 ) کہ ہم نے انسانوں کو زمین پر اور دریاؤں پر خود اُٹھایا۔ایسا ہی زمین بھی ہر ایک چیز کو اُٹھاتی ہے اور ہر ایک خا کی چیز کی سکونت مستقل زمین میں ہے۔وہ جس کو چاہے عزت کے مقام پر بٹھا وے اور جس کو چاہے ذلت کے مقام میں پھینک دے۔پس اس طرح پر زمین کا نام ملِكِ يَوْمِ الدین ہوا یعنی استعارہ کے طور پر صحیفہ فطرت کے آئینہ میں یہ چاروں الہی