تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 388

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ سورة الفاتحة تک پہنچا کر دن چڑھا دیتا ہے اور جیسا کہ وہ جسمانی سورج حقیقی سورج کے سہارے سے پھلوں کو پکاتا ہے اور ان میں شیرینی اور حلاوت ڈالتا اور عفونتوں کو دُور کرتا اور بہار کے موسم میں تمام درختوں کو ایک سبز چادر پہناتا اور خوشگوار پھلوں کی دولت سے ان کے دامن کو پُر کرتا اور پھر خریف میں اس کے برخلاف اثر ظاہر کرتا ہے اور تمام درختوں کے پتے گرا دیتا اور بدشکل بنا دیتا اور پھلوں سے محروم کرتا اور بالکل انہیں ننگے کر دیتا ہے بجز ان ہمیشہ بہار درختوں کے جن پر وہ ایسا اثر نہیں ڈالتا یہی کام اس حقیقی آفتاب کے ہیں جو سر چشمہ تمام روشنیوں اور فیضوں کا ہے وہ اپنی مختلف تجلیات سے مختلف طور کے اثر دکھاتا ہے ایک قسم کی تجلی سے وہ بہار پیدا کر دیتا ہے اور پھر دوسری قسم کی تجلی سے وہ خزاں لاتا ہے اور ایک تجلی سے وہ عارفوں کے لئے معرفت کی حلاوتیں پیدا کرتا ہے اور پھر ایک تجلی سے کفر اور فسق کا عفونت ناک مادہ دنیا سے دُور اور دفع کر دیتا ہے۔پس اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ تمام کام جو یہ جسمانی آفتاب کر رہا ہے وہ سب کام اس حقیقی آفتاب کے ظلّ ہیں اور یہ نہیں کہ وہ صرف روحانی کام کرتا ہے بلکہ جس قدر اس جسمانی سورج کے کام ہیں وہ اس کے اپنے کام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت اسی معبود حقیقی کی پوشیدہ طاقت اس کے اندر وہ تمام کام کر رہی ہے جیسا کہ اُسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن شریف میں ایک ملکہ کا قبضہ لکھا ہے جو آفتاب پرست تھی اور اس کا نام بلقیس تھا اور وہ اپنے ملک کی بادشاہ تھی اور ایسا ہوا کہ اس وقت کے نبی نے اس کو دھمکی دے بھیجی کہ تجھے ہمارے پاس حاضر ہونا چاہئے ورنہ ہمارا لشکر تیرے پر چڑھائی کرے گا اور پھر تیری خیر نہیں ہوگی۔پس وہ ڈرگئی اور اس نبی کے پاس حاضر ہونے کے لئے اپنے شہر سے روانہ ہوئی اور قبل اس کے کہ وہ حاضر ہو اس کو متنبہ کرنے کے لئے ایک ایسا محل طیار کیا گیا جس پر نہایت مصفا شیشہ کا فرش تھا اور اس فرش کے نیچے نہر کی طرح ایک وسیع خندق طیار کی گئی تھی جس میں پانی بہتا تھا اور پانی میں مچھلیاں چلتی تھیں جب وہ ملکہ اس جگہ پہنچی تو اس کو حکم دیا گیا کہ محل کے اندر آ جا تب اس نے نزدیک جا کر دیکھا کہ پانی زور سے بہہ رہا ہے اور اس میں مچھلیاں ہیں۔اس نظارہ سے اس پر یہ اثر ہوا کہ اُس نے اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑا اُٹھا لیا کہ ایسا نہ ہو کہ پانی میں تر ہو جائے۔تب اُس نبی نے اس ملکہ کو جس کا نام بلقیس تھا آواز دی کہ اے بلقیس تو کس غلطی میں گرفتار ہوگئی۔یہ تو پانی نہیں ہے جس سے ڈر کر تو نے پاجامہ اوپر اٹھالیا۔یہ تو شیشہ کا فرش ہے اور پانی اس کے نیچے ہے۔اس مقام میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔قَالَ إِنَّه صرح مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ (العمل : ۴۵) یعنی اس نبی نے کہا کہ اے بلقیس تو کیوں دھوکا کھاتی ہے یہ تو شیش محل کے شیشے ہیں جو او پر کی سطح پر بطور فرش