تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 387

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۷ سورة الفاتحة بت پرستی اور عناصر پرستی کا مذہب اس ملک میں اس قدر قدیم ہے کہ محققانہ طور پر اس کا کوئی ابتدا ٹھہرانا مشکل ہے بجز اس کے کہ اس مذہب کو وید کے ساتھ ساتھ تسلیم کیا جائے مگر پھر بھی۔۔۔۔۔مجھے بعض قرآنی آیتوں پر نظر ڈال کر خیال آتا ہے کہ شاید اصل تعلیم وید کی عناصر پرستی سے پاک ہو اور عناصر کی مہما اور اُستت سے کچھ اور مطلب ہو مگر۔۔۔۔۔یہ میرا خیال اس وقت یقین کے مرتبہ تک پہنچے گا جبکہ وید کی پہچان یا ساتھ یاسر شرتیوں سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ ان تمام عناصر اور اجرام فلکی کی پوجا سے جن کی مہما اور استت رگ وید میں موجود ہے صاف اور صریح لفظوں کے ساتھ منع کرتا ہے۔وید کی شرتیوں کی وہ تاویل جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں قرآن شریف کی چند آیتوں پر غور کرنے سے میرے دل میں گزرتی ہے۔پہلی آیت یہ کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی سورۃ فاتحہ میں فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رب العلمین۔یعنی ہر ایک حمد اور ثنا اس خدا کے لئے مسلم ہے جس کی تربیت ہر ایک عالم میں یعنی ہر ایک رنگ میں ہر ایک پیرا یہ میں اور ہر ایک فائدہ بخش صنعت الہی کے ذریعہ سے مشہود اور محسوس ہو رہی ہے یعنی جن جن متفرق وسیلوں پر اس دنیا کے لوگوں کی بقا اور عافیت اور تکمیل موقوف ہے دراصل ان کے پردہ میں ایک ہی پوشیدہ طاقت کام کر رہی ہے جس کا نام اللہ ہے۔چنانچہ اس دنیا کے کاروبار کی تعمیل کے لئے ایک قسم کی تربیت سورج کر رہا ہے جو ایک حد تک انسان کے بدن کو گرمی پہنچا کر دوران خون کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جس سے انسان مرنے سے بچتا ہے اور اس کی آنکھوں کے نور کی مدد کرتا ہے۔پس حقیقی سورج جو حقیقی گرمی پہنچانے والا اور حقیقی روشنی عطا کرنے والا ہے وہ خدا ہے کیونکہ اسی کی طاقت کے سہارے سے یہ سورج بھی کام کر رہا ہے اور اس حقیقی سورج کا صرف یہی کام نہیں کہ وہ دورانِ خون کے سلسلہ کو جاری رکھتا ہے جس پر جسمانی زندگی موقوف ہے۔اس طرح پر کہ اس فعل کا آلہ انسان کے دل کو ٹھہراتا ہے اور آسمانی روشنی سے آنکھوں کے نور کی مدد کرتا ہے بلکہ وہ روحانی زندگی کو نوع انسان کے تمام اعضاء تک پہنچانے کے لئے منجملہ انسانوں کے ایک انسان کو اختیار کر لیتا ہے اور انسانی سلسلہ کے مجموعہ کے لئے جو ایک جسم کا حکم رکھتا ہے اس کو بطور دل کے قرار دے دیتا ہے اور اس کو روحانی زندگی کا خون نوع انسان کے تمام اعضاء تک پہنچانے کے لئے ایک آلہ مقرر کر دیتا ہے۔پس وہ طبعاً اس خدمت میں لگا رہتا ہے کہ ایک طرف سے لیتا اور پھر تمام مناسب اطراف میں تقسیم کر دیتا ہے اور جیسا کہ غیر حقیقی اور جسمانی سورج آنکھوں کو کامل روشنی پہنچاتا اور تمام نیک بد چیزیں ان پر کھول دیتا ہے۔ایسا ہی یہ حقیقی سورج دل کی آنکھ کو معرفت کے بلند مینار